مجبوراً غیر مسلموں کے ساتھ رہنے والے کے ایمان کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا اور آج بھی مسلمان ہے ایک مسلمان نے اس کی مدد کی اور اسے اپنے یہاں رکھا لیکن کچھ دن ہوئے اس کے گھر والے جبرا اس کو پکڑ کر لے گئے اور انہوں نے اپنے ساتھ رہنے کے لیے اس کو مجبور کر دیا۔ اسلام سے پھیرنے کی بھی کوشش کی مگر وہ نہیں پھرا البتہ ان کے ساتھ رہنے سہنے اور کھانے پینے لگا ایسی صورت میں وہ مسلمان ہے یا کافر ہو گیا ؟ جولوگ اسے اس بنا پر کا فرسمجھ رہے ہیں یا اس کے بارے میں شک کر رہے ہیں ان کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: شرافت علی محله نواده شیخان پرانہ شہر بریلی شریف
جب تک کسی شخص سے کوئی قول و فعل منائی اسلام ہے جبر وا کراہ شرعی صادر نہ ہو، وہ مسلمان ہے! الجواب: صورت مسئولہ میں جب کہ اس شخص سے کوئی قول و فعل منافی اسلام ہے جبر وا کرا و شرعی صادر نہ ہوا تو وہ ہنوز مسلمان ہے اسے کا فر سمجھنا یا اس کے ایمان میں شک کرنا محض اس بنا پر جائز نہیں بلکہ اشد حرام کفر انجام ہے جس سے تو بہ لازم ہے البتہ اس شخص پر فرض ہے کہ ان غیر مسلموں سے جلد دور ہو کہ ایمان پر قائم رہنا اہم ترین فرض ہے اور کفار کے ساتھ بود و باش سخت مضرا ایمان ۔ واللہ تعالیٰ اعلم کتب فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله