صلہ رحمی، برادری کی عصبیت، سماجی بائیکاٹ اور شریعت کی اہمیت سے متعلق بارہ سوالات
(1) ایسی جماعت کے مفاد کی خاطر جو شخص صلہ رحمی جیسے واجب رشتے کو قربان کرنے کے بارے میں کہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۷) قوم پر پہلے طلاق جیسی مباح چیز کو روکنا ضروری ہے یا بدعقیدگی، شراب خوری و زنا کاری جیسی مہلک بیماریوں کو؟ (۸) اس قوم کے علاوہ دوسری مسلمان قومیں مثلاً لوہاران، قصابان وغیرہ میں سے اگر کوئی ایک فرد واحد کے مجرم ہونے کی وجہ سے اس کی پوری برادری کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کو لفظ اقلیت اور شیڈول کاسٹ ( یعنی نیچی وادنی قوم ) کے ساتھ پکارنا جائز ہے؟ اور جو شخص یا جماعت برادری کے رشتے کو ایمان کے رشتہ پر مقدم سمجھے یا کہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۹) ایکی دنیاوی جماعت کسی مجرم کو کتنی سزا دے سکتی ہے زیادہ بھی سزا دینے میں جماعت پر الزام ہے یا نہیں ؟ اگر کسی مجرم کو زیادہ لمبی سزادی جائے اور اس کی وجہ سے کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کرے جو جماعت کی طویل پابندی نہ ہونے کی صورت میں اس سے سرزدنہ ہوتا مثلاً زنا کاری جیسے ناجائز تعلقات وغیرہ۔ (۱۰) بعض لوگ زید سے دشمنی یا حسد یا دین میں حق گوئی کے باعث اس کے بائیکاٹ یا اسے رسوا کرنے پر تلے ہوتے ہیں نیز اس کے خلاف فتنہ پرور، فتنہ برپا کرنے والا جیسے نازیبا کلمات استعمال کر کے داغدار کرنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (11) جو شخص کسی مسلمان کو یہ کہے کہ تجھے قوم چاہیے یا شریعت؟ اس کے جواب میں وہ مسلمان کہتا ہے مجھے شریعت چاہیے اس پر وہ شخص کہتا ہے تو بھی اس کے ساتھ ہے جس کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جن لوگوں نے ان الفاظ کوسنا اور باوصف قدرت اس شخص کو نہیں روکا ان کے بارے میں بھی کیا حکم ہے؟ (۱۲) قوم کے مفاد کی خاطر روحانی رشته مثلاً استادی شاگردی پیری مریدی کو قربان کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ حضرت سے گزارش ہے کہ جوابات بڑی آسان زبان میں اردو تر جمہ کے ساتھ ہوتا کہ قوم کا ہر فرد اس کو آسانی سے سمجھ سکے۔ المستفتی : مولا ناول محمد صاحب رضوی ، خطیب جامع مسجد کلتی ناگور راجستھان
الجواب: (1) ایسی جماعت جس میں بد مذہب بھی شامل ہوں اس کا رکن بننا حرام بدکام بدانجام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حرام بد کام کفر انجام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) وہ مستحق ثواب ہوگا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) گناہ کا حکم کرنے والا گنہ گار ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) بدعقیدگی اور محرمات مثلاً زنا شراب خوری اور جوا وغیر ہا کبائر سے روکنا اشد ضروری ہے اور مرتکب جرم ہی کو مجرم قرار دیا جائے گا بے وجہ شرعی دوسروں کو مجرم جاننا حرام ہے اور بلا وجہ شرعی حقارت کا برتاؤ کبھی حرام اور ایمان پر کسی چیز کو مقدم جاننا بے ایمان کا کام ہے مسلمان کا نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹۸) زنا، شراب خوری اور چوری وغیرہ جن کبائر پر حدود شرعیہ مقرر ہیں ان کے علاوہ کبائر پر تعزیر کی کوئی تعیین شرعی طور پر نہیں ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔ قاضی شرع کی صوابدید پر ہے جو مناسب تعزیر ہوکرے مگر اب قاضی شرع کہاں جو سزائیں دے سکے۔ البتہ زجر وتو شیخ اور گناہ سے باز رکھنے کے لیے قطع تعلق کا حکم ہے اور بے وجہ شرعی مسلمان کو چھوڑنے کی شرعاً اجازت نہیں اور کسی مباح ( خواہ طلاق ہو یا کوئی اور چیز ) کے کرنے نہ کرنے پر جبر کرنا اور خلاف ورزی کی صورت میں ترک موالات و ترک معاملات کی پابندی عدل وانصاف نہیں، بلکہ ظلم بالائے ظلم ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۱۰) حق گوئی کی بنا پر کسی کوفتنہ پرور وغیرہ کلمات کہنا حرام بدانجام ہے لہذ ابر تقدیر صحت سوال وصدق سائل صورت مسئولہ میں قائل پر تو بہ واصلاح حال لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (11) وہ سخت گنہ گار مستوجب نار مستحق غضب جبار ہے اور دانستہ اس کے ہمنوا بھی اسی کی رسی میں گرفتار۔ شرعا یہ لوگ بائیکاٹ کے مستحق ہیں جب تک سچی توبہ نہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) نہیں جبکہ قوم کا مفادخلاف شرع ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ /رمضان المبارک ۱۴۱۵ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی