بعد موت جنات کے حالات و انجام کا بیان
مکرم و معظم اعلیٰ حضرت بخدمت جناب مفتی اعظم ہند قبلہ دامت برکاتہم العالیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت! آپ کیا فرماتے ہیں محلہ نئی بستی بلرامپور گونڈہ کے حضرت مولا نا عبدالرشید صاحب قبلہ نے یہ بتایا ہے کہ جنات کے بارے میں کہتے ہیں کہ جن جنات کے عمل صحیح ہیں تو وہ موت کے بعد فنا ہو جائیں گے اور جن جنات کے اعمال بُرے ہیں وہ دوزخ میں جائیں۔ المستفتيان : مسلمانان محلہ نئی بستی بلرامپور گونڈہ
الجواب: صالح جن اہل ثواب ہیں اور ان کے بابت ایک قول یہ ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ اور ان الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت الآية (1) سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اور مختار یہ ہے کہ وہ اعراف میں رہیں گے اور سوال میں جو تحریر ہوا وہ میری نظر سے نہ گذرا واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۹/ جمادی الآخرۃ ۱۴۰۲ھ صح الجواب : علمائے اعلام وفقہاء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ کافر جن کو عذاب ہوگا اور مومن جن کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ اور ابوز ناد اور لیث بن ابی سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے فرمایا کہ مومن جن کو نجات کے علاوہ کوئی ثواب نہیں ملے گا’ ثم يقال لهم كونوا ترابا مثل البهائم (۲) پھر ان سے کہا جائے گا کہ ہو جاؤ مٹی مثل جانوروں کے۔ اور ابن ابی لیلیٰ اور اوزاعی و مالک و شافعی واحمد و غیر هم رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے فرمایا کہ انهم يثابون على طاعتهم (۳) کہ انہیں تو اب اطاعت ملے گا امام اعظم ابو حنیفہ وصاحبین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ایک روایت یہ ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ سب فرشتے جنت میں رہیں گے اور سب شیطان دوزخ میں۔ اور انسان و جنات دونوں میں یعنی مومن جنت میں اور کافر دوزخ میں ہے اور آیت کریمہ وَلِكُلّ دَرَجَتْ مِمَّا عَمِلُوا (۱) کے اطلاق سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اور اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے کلمات طیبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مومن جن جنت میں نہ رہیں گے جنت بنی آدم کی میراث ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام بریلی شریف (1) سورة الانعام: ١٣٢