جو شخص کفر و ضلالت اور فسق و فجور سے تائب ہے اس سے پر ہیز بیجا ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ : ایک غیر مسلم جس کا نام ہری کرشن تھا مگر تقریباً چھتیس برس ہوے وہ مسلمان ہو گیا لیکن ہجڑا تھا مسلمان ہونے کی دلیل اور گواہ بھی ہے جس کا اسلامی نام عبد اللہ رکھا گیا وہ اپنے گناہوں سے تو بہ کر کے اللہ اور اس کے رسول و احکام اسلام پر عمل پیرا ہے اور ساتھ ہی ہجڑے کے پیشہ سے دست بردار ہو گیا مگر اس کے ہجڑے جو شاگرد تھے گھر آنے پر خاطر مدارات کر دیتا ہے علاوہ اس کے اپنے پرانے شاگردوں کو ناچنے گانے جیسی بُری عادتوں سے روکتا بھی ہے اللہ و رسول اور اسلام کے طور وطریقہ اپنانے کی ہدایت بھی کرتا ہے نیز اسلام کے نام ہزاروں روپیہ فی سبیل اللہ دیتا ہے جیسے دینی مدرسہ قبرستان وغیرہ وغیرہ میں جبکہ وہ بد مذہب تھا اس کے باپ کی کافی جائدا تھی اپنے حقیقی بھائیوں سے جدا ہو کر اپنا حق لے لیا اور اسی سے اپنے تمام اخراجات پورے کرتا ہے یہ خاندانی ہجڑہ نہیں ہے بلکہ باپ کا بنایا ہوا ہے، اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا حق بانٹ کر اسی روپیہ سے دوسری جائداد خریدی لہذا ایسی صورت میں مسلمان ہر طرح کا پر ہیز کرتے ہیں اب یہ شخص اپنے پرانے پیشہ کو ترک کر دیا ہے بحکم شریعت علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کیا مسلمان اس کے یہاں کسی موقع پر کھانا وغیرہ کھا سکتے ہیں؟ یادینی کاموں میں اس کا پیسہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟ سائل : علی رضا
الجواب: مسئولہ میں فی الواقع جبکہ وہ کفر و ضلالت اور فسق و فجور سے تائب اور خیرات کی طرف راغب ہے اس سے پر ہیز بیجا ہے اس کا مال حلال ہے اس کے یہاں کھانے میں حرج نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله