اسلام کو گالی دینے اور دین کی توہین کرنے والے کے ساتھ برتاؤ اور اس کے کھانے کا شرعی حکم
بعد سلام عرض ہے جس کی بابت لکھا جا رہا ہے وہ دین اسلام کے بارے میں کچھ خیال نہیں رکھتا ایک دن کا واقعہ ہے دیوار پر ایک کلینڈر زنانہ لگا ہوا تھا اس کو ہٹا کر میں نے نماز کی نیت باندھ لی کلینڈر ہٹانے پر مجھے اس نے مارا میں اس کے بعد خاموش ہو کر نکل گیا میں اس کے مکان پر بیماری کی حالت میں سورہا تھا بیماری میں اٹھ کر تو بہ استغفار کر رہا تھا اور اللہ و رسول کا نام لے رہا تھا اس پر اس نے دین اسلام کو بہت برا بھلا کہا، گالیاں بکیں اس روز سے میں نے وہاں سے اپنا قیام علیحدہ کر لیا اس کے گھر نیاز وغیرہ ہوتی ہے اس حالت میں اس کے گھر کا کھا پی سکتا ہوں یا نہیں میں خدا کے خوف سے اس کے گھر کی کوئی چیز نہیں لیتا ہوں اس واسطے میں نے آپ سے پوچھا اس متعلق شریعت کی رو سے آپ مجھے مطلع کریں مجھے کیا کرنا چاہیے آپ مجھے شریعت کا فتویٰ دینے کی تکلیف کریں وہ مجھے ہر جگہ ذلیل کرتا ہے میں اپنے یہاں اللہ و رسول کا ذکر کرتا ہوں وہ مجھے ذلیل کرتا ہے منشی صاحب کو میر اسلام بزرگوں کو میر اسلام ۔ بھیجنے والے: محمد ظفر بلد وانی
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے جو لکھا تو وہ شخص مسلمان نہیں اس پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے جب تک کہ سرے سے کلمہ پڑھ کر اور رجوع لا کر مسلمان نہ ہو اس سے اور اسکے ہمنواؤں اور شرکاے حال سے پر ہیز ضروری ہے تو اسکے گھر کا کھانا کیونکر ضروری ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم ۱۳ / رجب المرجب ۱۴۰۶ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی