کسی شخص کو سنی سمجھ کر اس کا جنازہ پڑھانے پر تکفیر اور جبری توبہ کا شرعی حکم
کہا کہ آپ نے ایک کا فر کی نماز جنازہ پڑھائی تو بہ کیجئے پس میں نے مفتی صاحب سے یہ کہا کہ میں مرحوم کوسنی سمجھتا تھا اور ابھی تک سمجھ رہا ہوں میرے نزدیک وہ معاذ اللہ کا فرنہیں اگر آپ کے نزدیک وہ مرحوم کافر ہے تو ثبوت کفر دیں متعدد بار ثبوت کفر کا مطالبہ کیا مگر مفتی صاحب ثبوت کفر نہ دے سکے بلکہ یوں کہتے رہے کہ آپ کو اس کا کفر معلوم ہو یا نہ ہو آپ کے نزدیک اس کا کفر ثابت ہو یا نہ ہو بہر حال آپ کا نماز جنازہ پڑھانا حرام تھا آپ حرام سے تو بہ کیجئے باقی شرکائے جنازہ کفر سے تو بہ کریں مگر پھر بھی میں تو بہ سے مسلسل انکار ہی کرتارہا اور مفتی صاحب بضد ہو گئے تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر آپ کا حکم ہے تو میں تو بہ کر لیتا ہوں چنانچہ میں نے دفع نزاع کے لیے تو بہ کر لی نہ کہ معاذ اللہ مرحوم کو کا فرسمجھ کر اور آج بھی اس کو سنی مسلمان سمجھ رہا ہوں اور یہ مذکور اقوال کمیسیٹ میں محفوظ ہیں جو حاضر خدمت ہیں لہذا حضور سے دریافت طلب امر یہ ہے کہ مفتی مذکور نے میری اسی تو بہ کو علت تکفیر قرار دے کر مجھے کافر کہا اور جگہ جگہ میرے کفر کا معاذ اللہ پر چار کرایا تو مفتی صاحب کا میرے اوپر کفر کا فتویٰ لگانا اور تشہیر کرانا شرعاً کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔ فقط والسلام المستفتی السیم احمد نوری امام نوری مسجد سول لائن شہر گووند یہ مہاراشٹرا
اس مسئلہ کا جواب مرکزی دارالافتاء سے پہلے ہی جاچکا اور وہ یہ کہ صورت مسئولہ میں سائل پر کوئی الزام نہیں اسے تو بہ کا حکم دینا صحیح نہ تھا کہ جب وہ نا واقف تھا تو اسے نماز جنازہ پڑھانا حرام نہ تھا بلکہ اگر اس جگہ پر وہی صالح و قابل امامت تھا تو امامت کے لیے وہی متعین تھا لہذا اسے امامت کرنا واجب تھا تو یہ کہنا کہ بہر حال نماز جنازہ پڑھنا حرام تھا یہ غلط اور محض جرنیلی حکم ہے مفتی مذکور فی السوال پر لازم تھا کہ مدعیان کفر سے متوفی کے کفر پر بینہ شرعیہ طلب فرماتے پھر شرکائے نماز جنازہ پر حکم شرعی نافذ کرتے ۔ پھر یہ امر بھی غور طلب ہے کہ مدعیان کفر متوفی ایک ماہ تک کس لیے خاموش رہے اگر اس کی کوئی وجہ شرعی نہ تھی تو حکم کفر شرکائے نماز جنازہ پر ہی نہیں بلکہ مدعیان پر بھی متعدی ہوگا کہ الرضا بالکفر کفر، کفر سے رضا خود کفر ہے کیا مفتی صاحب نے ان مدعیان کو بھی کوئی حکم شرعی بعد تحقیق حال و یا سوال هذا اور پچھلے سوال میں اس کا کوئی ذکر نہیں پھر یہ کم کہ آپ حرام سے تو بہ کیجئے پھر سائل کو وہ تو بہ جو بقول سائل محض دفع نزاع کے لیے تھی نہ کہ ثبوت جرم کے بعد اسے متوفی کی علت ووجہ تکفیر بتانا بہت عجیب ہے۔ بالجملہ بے ثبوت شرعی کا فر کہنا اور اس کی تشہیر کرنا شرعاً سخت ناروا ہے اور یہاں سوال سائل سے آشکار ہے کہ مفتی مذکور نے انہیں صرف حرام سے تو بہ کرنے کو کہا تھا تو یہ تشہیر و پر چار ان کے نادان ہوا خواہوں کا کام ہے بہر حال وہ لوگ سخت ملزم ہیں ان پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان وغیرہ بھی کریں اور مفتی صاحب پر لازم ہے کہ ان لوگوں کو ایسے پر چار سے باز رکھیں۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۵ ؍رجب المرجب ۱۴۲۰ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی