کا ہنوں کی بات کو سچ اعتقاد کرنے والا کافر ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کی گاڑی کا چکر چوری ہو گیا تھا چند آدمیوں نے مل کر جن میں ایک لطیف نامی ہے منتر پڑھکر بتوں اور کالیوں کے نام لیتے ہوئے شیطان کو دوسرے پر مسلط کرتا ہے اور چوروں کا نام بتا دیتا ہے پھر چند آدمی ملکر چوروں سے جرمانہ وصول کرتے ہیں کیا اس صورت میں کسی کے ایمان اور نکاح پر خلل آتا ہے یا نہیں؟ کیا تجدید ایمان اور تجدید نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔ فقط
الجواب: المستفتی فضل ، ٹیم گنجر یا اسٹیشن، بنگال شیطان سے استعانت حرام ہے اور قول کفر پر مشتمل ہو تو کفر ہے شرح فقہ اکبر میں ہے: لاتجوز الاستعانة بالجن فقد ذم الله الكافرين على ذالک فقال الله تعالى: وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالُ مِنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقا - وقال اللَّهُ تعالى: وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِنَ الإِنسِ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْض - الآية فاستمتاع الانسى بالجنى فى قضاء حوائجه و امتثال او امره و اخباره بشئ من المغيبات ، ونحو ذلك واستمتاع الجن بالانسی تعظیمه ایاه واستعانته به واستغاثته به وخضوعه له ، ملتقطا (۱) (1) منح الروض الازهر شرح الفقه الاكبر ص ۲۵۲ ، دار الایمان یعنی جن سے مدد مانگی جائز نہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر کافروں کی مذمت فرمائی کہ کچھ آدمی کچھ جنوں کی دُہائی دیتے تھے تو انہیں غرور چڑھا اور فرمایا جس دن ان سب کو اللہ اکٹھا کرے گا فرمائے گا اے گروہ شیاطین تم نے بہت آدمی اپنے کرلئے اور ان کے مطیع آدمی کہیں گے اے ہمارے رب ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا آدمی نے شیطانوں سے یہ فائدہ لیا کہ انہوں نے ان کی حاجتیں پوری کیں ان کا کہنا مانا اور انہیں کچھ غیب کی خبر دیں ۔ وعلی ھذا القیاس اور شیطانوں نے آدمیوں سے یہ فائدہ لیا کہ انہوں نے ان کی تعظیم کی ان سے مدد مانگی ، ان سے فریاد کی ، ان کے لئے جھکے اور ایسی استعانت دوسرے سے کرنا حرام بلکہ جب معلوم ہو کہ وہ قول وفعل کفر پر مشتمل ہیں تو کفر سے رضا ہے اور رضا بہ کفر خود کفر ہے اور مع طذا جبکہ یہ اعتقاد ہو کہ جو خبر ان شیاطین کے ذریعہ حاصل ہوئی وہ قطعی یقینی ہے اور ان شیاطین نے یہ خبر خود جان لی تو یہ بھی کفر ہے کہ بے واسطہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کسی کو کسی غیب کا علم یقینی ملنے کا اعتقاد کفر ہے کہ مخالف قرآن مجید ہے۔ قال تعالى : عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةَ أَحَدٌ أَهِ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُوْلٍ اللہ عالم الغیب ہے تو اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا بلکہ اپنے پسندیدہ رسولوں کو ۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: من أتى عرافا او كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم جو کسی غیب گویا کا ہن کے پاس جائے اور اس کی بات کو سچ اعتقاد کرے تو وہ کافر ہوا اس چیز سے جو اتاری گئی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر۔ بالجملہ ان لوگوں پر تو بہ لازم ہے اور اگر اس شخص کی خبر کو قطعی اور یقینی سمجھا تو تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی لازم ہے یونہی جبکہ اس منتر کا کفریات پر مشتمل ہونا معلوم ہو تو یہی حکم ہے، واللہ تعالی اعلم۔ اور اس شخص پر بھی تو یہ تجدید ایمان وتجدید نکاح فرض ہے۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم تحسین رضا خاں غفرلہ