ہندو نژاد شخص کا اسلامی عقائد پر قائم ہونے کی صورت میں شرعی حکم اور تدفین
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: اس ناچیز کو پانچو (پانچوخلیفہ ) کہتے ہیں۔ میں اکھاڑ نمبر ۲، چھپرہ محلہ صدر بازار بارک پور کا با قاعدہ خلیفہ ہوں واضح ہو کہ آج تقریباً ۲۰ / برس سے میں محرم کے موقع پر نشان اٹھا تا آرہا ہوں ہر روز امام باڑہ کی صفائی چراغ جلانا اور جو مجھے یاد ہو پڑھنا یہ اپنا دستور ہے قرآن شریف کے بہت سارے سورہ یاد ہیں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہے لیکن میں نسل وذات کے اعتبار سے ”ہندو ہوں لیکن میرا ایمان کیا ہے اور عقیدہ کیا ہے میں کس کا رد عمل میں مشغول ہوں اس کی جھلک تو میں اوپر درج کر چکا ہوں اور میں اپنی زندگی میں بھی ایک وصیت تحریر وز بانی شکل میں چھوڑ دینا چاہتا ہوں کہ بعد میرے مرنے کے میری لاش کو اسلامی طریقے سے غسل دے کر بعد نماز جنازہ مسلم قبرستان میں دفن کیا جائے تو کیا بعد مرنے کے میری لاش کو اسلامی طریقے کے مطابق غسل دے کر اور بعد نماز جنازہ کے مسلم قبرستان میں دفن کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ المستفتی: پانچو خلیفہ 78 چھا پر محال صدر جزار، بارک پور، ۲۴ پرگنه
الجواب: فی الواقع اگر آپ اللہ ورسول پر ایمان رکھتے اور اسلام کے علاوہ ہر دھرم کو جھوٹا جانتے ہیں ۔ اور کوئی قول یا فعل منافی اسلام نہیں کرتے ہیں تو آپ مسلمان ہیں آپ کا انتقال اسی حالت پر ہو تو آپ کو مسلمانوں کے قبرستان میں بعد تجہیز و تکفین و نماز جنازہ دفن کیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم