مسلمان کو مسلمان کافر کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے!
حضرت قبلہ استاد قاضی صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کا کہنا ہے کہ کافر کو کافر کہنا مکروہ ہے اور اس کے جواب میں خالد کہتا ہے کہ کا فر کو کافر کہنا فرض ہے۔ برائے کرم جواز و عدم جواز پر مفصل جواب مرحمت فرما دیں کہ کون فریق کس حد کا مرتکب ہوا ہے۔ احقر العباد مولوی حبیب اللہ
الجواب: مسلمان کو مسلمان اور کافر کو کافر جاننا ضروریات دین سے ہے اور جو ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے۔ یہ بات اور ہے کہ کسی خاص شخص کی نسبت یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان یا معاذ اللہ کفر پر ہوا۔ تاوقتیکہ اس کے خاتمہ کا حال شرعی دلیل سے ثابت نہ ہومگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس شخص نے قطعاً کفر بکا یا کفری فعل کیا اس کے کفر میں شک کرنا جائز ہو جائے کہ جو کا فر قطعی طور پر ہو اس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ علما ایسوں کی نسبت فرماتے ہیں: ،، من شک فی عذابه و کفره کفر (۱) ضروریات دین وہ امور ہیں جن کو (ان کی شہرت کی وجہ سے ) خواص وعوام سب ہی دین کی ضروری باتیں سمجھتے ہوں جیسے توحید، رسالت و محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا، نماز روزے کی فرضیت ، شراب، جوئے کی حرمت اور اسی کے مثل اور باتیں ان میں سے ہر ایک کا انکار کفر ہے۔ ردالمحتار میں ہے: هو ما يعرف الخواص والعوام انه من الدين كوجوب اعتقاد التوحيدو الرسالة ،، والصلوة الخمس واخواتها یکفر منکره (۲) اسی میں ہے: لا خلاف في كفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان كان من اهل القبلة “ (۳) جو شخص ضروریات اسلام کا مخالف ہو اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں ، اگر چہ وہ اہل قبلہ میں سے ہو۔ قرآن عظیم نے بہت سے مقامات پر کافروں کو کا فر فرمایا تو یہ کہنا کہ کافرکو کافر نہیں کہنا چاہیئے، محض غلط و باطل ہے ورنہ قرآن عظیم خود منع فرماتا ، قرآن عظیم کا ارشاد ہے: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَ رَسُوْلِهِ وَمَاتُوْا وَهُمْ فَسِقُوْنَ (٢) یعنی ان کی نماز جنازہ نہ پڑھئے ان کی قبر پر کھڑے نہ ہوئے اس لئے کہ انھوں نے اللہ ورسول کے ساتھ کفر کیا اور نافرمان مر گئے۔ اور قُلْ يَأَيُّهَا الكَفِرُونَ“ میں تو محبوب مایا ہی تم کوحکم دیا گیا: کہ آپ فرما دیجے ”اے کا فرو!“ معلوم ہوا کہ جو کافر ہوا سے کافرماننا ضروری ہے کہ اگر دیدہ و دانستہ اسے کا فرنہ کہا تو کفر سے رضا ہوئی اور رضا بالکفر کفر ہے ورنہ کوئی حرج نہیں کہ جو کھلا کافر ہے اسے کافر کہنے میں کیا شک ہے۔ اللہ تعالیٰ کافروں کی مثال بیان فرماتا ہے: مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ - الآية (1) جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ سی ہے جس پر آندھی والے دن زور سے ہوا چلی وہ اپنے کئے میں کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے۔ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابِ بِقِيعَةٍ تَحْسَبُهُ الثَّمَانُ مَاء - الآية (2) جنہوں نے خدا کے ساتھ کفر کیا ان کے کام اس سراب کی طرح ہیں جو میدان میں ہو جس کو پیاسا پانی سمجھتا ہے حتی کہ جب وہ اسکے پاس جائے تو وہاں کسی چیز کا وجود اس کو نظر نہ آئے۔ لہذا زید کا قول سخت غلط و باطل ہے اور خالد صحیح کہتا ہے۔ زید پر تو بہ لازم ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ (1) سورة ابراهيم: ۱۸ (2) سورة النور: ٣٩