اللہ پر اعتراض کفر ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید نے ان اشعار کو مجلس میں پڑھا اور باتکرار پڑھتا رہا۔ اشعار درج ذیل ہیں: (1) میں بت پرست بھلا بندگی کو کیا سمجھوں جہاں بھی تم نے کہا سر جھکا لیا میں نے (۲) حشر کے روز یہ پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا نہیں مجرم کو خطا سے پہلے اشعار مذکور کے پڑھنے والے اور سامعین پر از روئے شرع تجدید ایمان و نکاح لازم ہے یا نہیں؟ از روئے شرع بالتفصیل جواب عنایت فرمائیں۔ از روئے شرع با جواب عنایت ہے المستفتی محمد منیر العین متعلم دار العلوم منظر اسلام، بریلی شریف
الجواب: پہلے شعر میں تاویل ممکن ہے۔ بت ،صنم ، حسینوں کو شاعر بہت باندھتے ہیں، تو بت پرست کا مطلب پرستار حسن ہوگا اور یہ مراد ہوں تو تکفیر نہ ہوگی اور اگر فی الحال اپنے کو بت پرست مراد لے رہا ہے تو بلا شبہ کا فر ہے، تو بہ وتجدید ایمان لازم اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ اور دوسرے شعر میں دوسرا مصرعہ صریح ہے اعتراض و گستاخی شان باری میں اور اللہ پر اعتراض کفر ہے جس سے تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔ قال تعالیٰ: لا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْتَلُونَ )) در مختار میں ہے: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح واولاده اولاد زنا و مافيه خلاف يومر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (۱) سورة الانبياء: ٢٣ (۲) الدر المختار باب المرتد، ج ۶، ص ۳۹۰، دار الكتب العلمية، بيروت