کفار کے سلام کا جواب دینا منع ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: اگر کوئی ہندو یعنی غیر مسلم عبد مبہم المانوس مسلمانوں کو سلام کرے۔اسے اسلامی طور طریقہ سے جواب دینا لازم ہے یا نہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کیوں؟ جبکہ اخلاقی طور پر ہر مسلمان کو پابند اخلاق رسول ہونا چاہئے جو اکثر غیر مسلموں کی عیادت کا بھی ضروری خیال کریں۔ فقط
الجواب: المستفتی حشمت اللہ، مؤرخہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۷ء کفار سے اللہ تعالیٰ نے دوری واحتراز کا حکم فرمایا۔ قال تعالیٰ: وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ )) یعنی شیطان اگر تجھے بھلا دے تو ظالموں کے ساتھ یاد آنے پر نہ بیٹھو۔ تفسیر احمدی میں فرمایا: ان القوم الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع كلهم ممتنع “ قرآن کا حکم کا فرو فاسق و بدعتی سب کو عام ہے اور سب کے ساتھ بیٹھنا منع ہے اور بیٹھنے سے مراد یہاں میل جول ہے یہ دلیل اس کے قرآن نے بیٹھنے سے بہ علت ظلم جو کفر وغیرہ سے عبارت ہے منع فرمایا جس طرح علت بیٹھنے سے مانع ہوئی اسی طرح ہر اس کام سے منع ہو گی جو ان کے ساتھ بیٹھنے کا سبب بنے پھر عرف جاری ہے کہ عموماً بیٹھنا بولتے ہیں اور میل جول مراد لیتے ہیں تو مطلقاً ہر طرح کا میل ان سے حرام ہے اسی لئے دوسری آیت میں انکی طرف میلان سے بھی منع فرمایا، ارشاد باری: وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ( ) ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھولے۔ اور سلام ظاہر میلان ہے اور آپس میں محبت کا سبب ہے اور وہ قرآن نے کفار سے ممنوع فرمادی لہذا سلام میں ابتداء جائز نہیں اور یہی حکم فاسق معلن کا بھی ہے۔ در مختار میں ہے: ویکرہ السلام على الفاسق لو معلناً (1) اسی در مختار میں ذمی کو سلام کرنے کے بارے میں ہے: ويسلم المسلم على اهل الذمة لوله حاجة اليه والاكره هو الصحيح (۲) یعنی مسلمان، ذمی کافروں کو سلام کر سکتا ہے اگر اس کا فر کی طرف کوئی ضرورت شرعیہ ہو ورنہ حرام ہے۔ یہی صحیح ہے۔ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ بے ضرورت ابتدا بہ سلام کرنا نا جائز ہے۔ اور بہ ضرورت شرع جائز ہے یہاں اصل سے ظاہر کہ جب اندیشہ شدید فتنہ کا ہو یا ضرورت شرعیہ ہو تو جواب دینا جائز ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل پر قیاس کرنا جائز نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فعل ابتدائے اسلام میں تھا اور ان کی تالیف شرع میں جائز بھی نیز قرآن عظیم نے حربی کافروں کی مراعات کو منہدم فرما دیا اور ذمی کافروں کے ساتھ مراعات کا حکم برقرار رکھا۔ قال تعالیٰ: إِنَّمَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قُتَلُوْ كُمْ فِي الدِّينِ - الآية (۳) اور کفار زمانہ بے شک حربی ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) الدر المختار کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء، ج ۹، ص ۵۹۵ ، دار الکتب العلمیه بیروت (۲) الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء، ج ۹، ص ۵۹۰ ، دار الکتب العلمیه، بیروت (۳) سورة الممتحنه: ۹