ہندؤں کی صحبت اختیار کرنا، ان کی طرح سر پر چوٹی رکھنا اور ان کا لباس پہننا شرعا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: میری دختر کی شادی زید سے ہوئی جس کو عرصہ پانچ سال کا ہوا چاہتا ہے۔ ابتدائی سال میں زید اپنی بیوی و گھر بار کو چھوڑ کر دوبارہ بھاگ گیا۔ زید کے والد و عزیز و اقربا اس کو تلاش کر کے لائے۔ زید اتنے دن ہندؤں کی محبت و صحبت میں رہا۔ جس سے مذہب باطلہ کی طرف راغب ہونا نظر آیا۔ ایسی صورت میں احباب کی کافی کوشش رہی کہ وہ مذہب حق چھوڑ کر باطل کی طرف نہ جائے لیکن ایک دن موقع پا کر تیسری بار وہ پھر بھاگ گیا۔ والد و عزیز واقرباء نے بہت تلاش کیا تو وہ ہندؤں میں ملا۔ لیکن اس بار اس کی شکل میں تبدیلی نظر آئی۔ کہ سر پر چوٹی ہے، ہندوؤں کا لباس پہنے ہے، گھر لایا گیا، چوٹی کاٹی گئی، مسلمان کا لباس پہنایا گیا۔ اور ہر طرح سمجھایا گیا لیکن زید اپنی سمجھ کا اکیلا انظر آیا۔ چوتھی بار پھر بھاگا اس بار جو گیا ہے تو لا پتہ ہو چلا ہے اب کسی جگہ پر تلاش کرے پر بھی نہیں ملا۔ جو کہ عرصہ لگ بھنگ چار سال کا ہو گیا ہے ۔ اب نہ اس کی کوئی خبر ملی کہ وہ کہاں ہے، اور نہ کوئی خط و کتابت ۔ اور نہ یہ معلوم ہے کہ وہ ہندو ہی ہے یا مسلمان؟ لہذا سر کار عالی جاہ سے التماس ہے کہ شرع وسنت کی روشنی میں مفصل جواب مرحمت فرمایا جائے ۔ آیا کہ کیا کیا جائے؟ بیٹی جوان ہے اور میں رانڈ بیوہ ہوں ۔ مہربانی ہوگی ۔ بیٹی بھی غریب کی عزت ہے، کہیں قدم نہ بہک جائے ۔ فقط والسلام زوجہ عبدالمجید خاں (مرحوم) ساکن بیسلپور ضلع پیلی بھیت
الجواب: تیسری بار وہ بلاشبہ مرتد ہو کر لوٹا۔ اس سے تجدید ایمان کے بعد آپ کی دختر سے تجدید نکاح ہوا تھا یا نہیں؟ اگر تجدید نکاح ہوا اور اس مدت میں اس سے کوئی قول یا فعل منافی اسلام صادر نہ ہوا تو جب تک اس کی موت یا طلاق یا معاذ اللہ مرتد ہونے کا علم نہ ہو دوسرے سے نکاح حرام قطعی ہے۔ اور صورت اگر ضرورت ملجہ کی ہو تو ہمارے فتویٰ پر جو منسلک ہے عمل کیا جائے۔ اگر تجدید ایمان کے بعد آپ کی دختر کے ساتھ تجدید نکاح نہ کیا تھا اور یہ بات قطعی یقینی ہو تو آپ کی دختر اس کے نکاح سے نکل گئی عدت گزار کر کسی مرد کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۴ / جمادی الاولی ۱۴۰۴ھ