فتویٰ کو یزیدی کام کہنے والے کے کفر اور اس سے قطع تعلق کا حکم
یزیدی کام کہے ایسے منصور ٹیلر کے لئے کیا حکم ہے؟ عام مسلمانوں کو منصور ٹیلر کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہئے؟ کیا منصور کے لئے یہ ضروری نہیں کہ جبتک مسجد کی جائیداد نہیں دیتا تب تک کے لئے لڑکی کو سرال میں رہ کر شوہر پر دباؤ ڈالنے کا مشورہ دے۔ لڑکی کی رعایت کے نام پر منصور لڑکی کی معرفت داماد کو مسجد کمیٹی کے خلاف مشورہ بھیجتا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ لڑکی میکہ یا سسرال کسی ایک جگہ رہے۔ کیا حکم ہے؟ کیا یہ بھی ضروری نہیں کہ منصور ٹیلر ( بڑہا) کے دیو بندی رشتہ داروں کو چھوڑے یا پھر سنی علماء کے سامنے حاضر کر کے صفائی کرائے۔ اگر منصور عمل نہیں کرتا تو سنیوں کو منصور کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہئے؟ اور جو کوئی منصور کا ساتھ دے ان کے بارے میں بھی حکم فرمائیں۔
مستفتی: مولوی ثار احمد قادری رضوی مصطفوی، جھنڈا بازار کنی سوال فرضی نام ( مثلا زید و عمرو ) سے کرنا چاہئے ۔ زواجر میں ہے: و الافضل ان يبهمه - الخ“ (1) یہ کہنا کہ فتوی بازی یزیدی کام ہے، کفر در کفر ہے کہ فتویٰ جو حکم شرع ہے اسے بازی کہنا اس کی اہانت ہے اور اسے یزیدی کام کہنا فتویٰ کی دوسری اہانت ہے اور یہ دونوں بول کفری ہیں۔ شرح فقہ اکبر میں ہے: من اهان الشريعة او المسائل التي لا بد منها كفر (۲) اس شخص پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح فرض ہے اور اپنے داماد اور دیو بندی رشتہ داروں سے بیزاری و دوری بھی ضرور ۔ ورنہ ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ