بغیر ایمان بالرسول نجات اور دخولِ جنت کے باطل نظریے کا رد
کا عمل صالح ہو وہ جنت میں جائیگا چاہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ ہو۔ سیرت النبی میں سب حوالہ دیا ہے۔ آیت کا جواب آیت سے فقہ سے نہیں مانیں گے۔ جواب مدلل و مفصل تحریر فرمائیں۔ (بیان: نثار احمد ، ولد دین محمد ، ساکن ولی گڑھی ) آج کا یہودی، آج کا نصرانی ، آج کے مجوسی کا عمل کتنا ہی اچھا ہو جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے گا وہ جنت میں نہ جائے گا۔ (بیان: بشیر احمد ، ولد امیر اللہ ساکن اونکار، میسور ) المستفتی: زاہد حسین مصباحی، نواپورہ، وارانی
الجواب: شار احمد کا بیان محض جاہلانہ اور خالص ملحدانہ ہے۔ محض شرک نہ کرنا ہرگز مدارا ایمان نہیں ۔ بلکہ مدار تو حید بھی نہیں کہ توحید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واحد حقیقی جانے اور وجوبا اسے ہر کمال سے موصوف اور ہر عیب و نقصان سے منزہ و متعالی سمجھے اور ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جملہ احکام ضرور یہ (معروفہ مشہورہ) کوحق و صدق جانے ، مانے اور عناداً کسی حکم سے سرتابی نہ کرے اور اس آیت کریمہ میں جسے وہ اپنا مستندل سمجھ رہا ہے مَنْ آمَنَ بِاللہ کی قید موجود ہے جسے وہ اپنے فہم ناقص سے محض نفی شرک سمجھ بیٹھا۔ حالانکہ بعد بعثت محض تو حید شرعی بھی مومن ہونے کو کافی نہیں بلکہ خدا کے اس حکم احکم پر بھی ایمان ضروری کہ فرماتا ہے: فَآمِنُوا بِالله وَرَسُولِهِ النَّبِي الْأُتِيَ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ كَلِمَتِهِ یعنی ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب کی خبر دینے والے پر جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے۔ اور یہ خطاب نصرانی و یہودی و مجوسی و صابی سب کو عام ہے۔ بدلیل آنکہ پہلے ارشاد فرمایا کہ: إنّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا - الآية (۲) اے محبوب تم فرماؤ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ۔ اور عمل صالح کو نجات کی شرط کرنا اس کی جہالت ہے۔ اہل سنت کے نزدیک مدار نجات ایمان ہے۔ ولہذا جو ایمان پر مرے اگر چہ عامی و بدکار ہو تال کا ر اس کا یہ ہے کہ جنت میں جائیگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ رصفر المظفر ۱۳۹۹ھ