غیر مسلموں کے مذہبی شعار کو انجام دینا اور ان کے کفری کلمات بولنا کفر ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: زید کہتا ہے کہ مسلمانوں نے ایک مصنوعی ارتی بنائی جس کے آگے پیچھے مسلمان موجود تھے اور اس ارتی کے ساتھ مسلمانوں ں نے گھنٹہ بجایا جو کہ ہندو لوگ ارتی کے ساتھ گھنٹہ بجاتے ہیں اور مور چھل جو کہ ارتی کے اوپر جھیلا جاتا ہے اس کام کو بھی مسلمانوں نے کیا اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے ہری اوم نام ستیہ کے نعرے لگائے اور اس مصنوعی ارتی کو مسلمانوں نے چوراہے پر اپنے ہاتھ سے جلایا جیسا کہ ہندو اپنے مذہب کے مطابق کرتے ہیں ایسے ہی سب کاموں کو مسلمانوں نے انجام دیا اور یہ ایک جلوس نکالا گیا تھا یہ سب واردات جلوس میں ہوئی تھیں مسلمانوں کو ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اپنے مسلک کو چھوڑ کر ہندؤوں کا طریقہ اختیار کرنا کیسا ہے؟ جواب مع حوالہ کے دیا جائے۔ سائل : محمد عبد الحفيظ ولد محمد صدیق سنبھل مراد آباد
الجواب: بر تقدیر صدق سوال ان لوگوں پر تو به وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے کہ غیر مسلموں کے مذہبی شعار کو انجام دینا اور ان کے کفری کلمات بولنا کفر ہے۔ (1) حدیث میں ہے: " من تشبه بقوم فهو منهم (1) جو جس قوم سے مشابہت کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم فقیر مصطفیٰ رضا القادری غفرلہ تحسین رضاخاں ابودائود ،شریف، کتاب اللباس، باب لبس الشهرة، ص ۵۵۹ الشهرة ، ص ۵۵۹، اصح المطابع صح الجواب ! فی الواقع جس مسلمان نے گھنٹہ یا ناقوس بجایا اور جس نے ہری ہری اوم ستیہ کا ملعون کلمہ بکا اور جو اس سے راضی رہے وہ تو بہ وتجدید ایمان وغیرہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی