ترجمانی قرآن کتاب کا مطالعہ جائز نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کتاب بنام ”ترجمانی قرآن ہماری مسجد املی والی میں حال ہی میں آئی ہے جو آپ کی نظر سے گزر بھی چکی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کا مطالعہ جائز ہے یا نہیں؟ المستفتیان : اہل مسجد املی والی ،محلہ پنجاب پوره ، بریلی شریف
الجواب: کتاب مذکور کا مطالعہ جائز نہیں نہ اسے مسجد میں رکھنا درست که کتاب مذکور سخت گمراه کن ، عقائد اہل سنت کر مھم اللہ تعالیٰ کے یکسر مخالف ہے دار الافتاء میں فقیر نے اس کا سرسری طور پر مطالعہ کیا اس میں یہ ظاہر ہو گیا کہ مصنف کتاب خالص وہابی مودودی اور اختیارات انبیا، اولیا اور وسیلہ و شفاعت جیسے امور جن پر قرآن و حدیث ناطق ہیں ان کا منکر ہے اور ان امور کے قائلین اہل سنت کو جابجا مشرک کہا کتاب مذکور پیش کی جائے تاکہ پر فریب عبارات کی نشاندہی کی جاسکے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله دارالافتاء منظر اسلام سوداگران، بریلی شریف، یوپی صح الجواب ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی