دیوبندیوں کو مسلمان جاننے والے کو صدر بنانا گناہ ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف کے اگست کے شمارہ میں حضور مفتی اعظم کا ایک فتویٰ جو رویت ہلال کے سلسلے میں شائع ہوا ہے جو دراصل شاہ عون احمد صاحب پھلواری کے فتویٰ کے جواب میں ہے جواب کی ابتدا میں یہ عبارت ہے، اب ہمارا روئے سخن شاہ صاحب مذکور کی طرف ہے الخ ، جواب ۲۳ شقوں میں دیے گئے ہیں جس میں ۲۲ نمبر میں یہ تحریر فرمایا گیا ہے۔ ہاں ! یہ ضرور کہوں گا کہ پہلے دیوبندیوں کا کفر اٹھا کر اپنا مومن ہونا ثابت کرنے کے بعد کسی مسئلہ فرعیہ میں لب کشائی کیجئے ورنہ جناب کو مسلمانوں کے مسائل سے کیا علاقہ؟ پھر لب کشائی کا کیا حق کسی بے گانہ اسلام کو پہنچتا ہے؟ اب حضور سے دریافت طلب امر ہے کہ ایسا مولوی جو اپنے ادارے میں شاہ صاحب مذکور کے لڑکے ( جو شاہ صاحب مذکور کے ہم مشرب و ہم مسلک ہیں ) کو اپنے ادارے کی میٹنگ کا صدر بنایا اس کے بارے میں شریعت مطہرہ کا فتویٰ کیا ہوگا ؟ نیز شاہ صاحب مذکور کا خط پھلواری کی نمائندگی دکھلاتے ہوئے مفتی اعظم نمبر میں شائع کرنا اور اس اشاعت کے لیے شاہ صاحب مذکور سے ان کے تأثرات طلب کرنا شائع کرنے والے کے دل میں شاہ صاحب مذکور کی عظمت کی غمازی کرتا ہے یا نہیں؟ اور ہاں، تو ایسے مولوی کیلئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے جو ادارہ اپنی میٹنگ کی صدارت شاہ صاحب مذکور کے حوالے کرتا ہے وہ ادارہ اہل سنت و جماعت کا کہلائے گا یا نہیں؟ جواب باصواب سے شاد کام فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ بینوا توجروا محمد بدرالدین محبی چکنواده دلسنگہ سرائے سمستی پور
الجواب: بر تقدیر صدق سوال و ثبوت شرعی سخت گنہگار ہے جس نے کسی دیو بندی یا دیو بندیوں کو مسلمان جاننے والے کو دیدہ و دانستہ صدر بنایا اور تاثرات طلب کرنا چھاپنا اگر مفتی اعظم کے بیگانوں کے دلوں میں عظمت دکھانے کو ہے تو اس پر الزام نہیں اور ادارہ اہلسنت و جماعت ہی کا تصور ہوگا البتہ جو ستحق صدارت نہ ہوا سے صدر بنانا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ محرم الحرام ۱۴۰۶ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی