جو اشرف علی تھانوی کے عقیدہ کفریہ پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے اس کے حکم کے متعلق
کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام و مفتیان دین وفقہ حنفیہ اس مسئلہ پر کہ زید ایک متقی و پرہیز گار شخص گزرے ہیں ( حال ہی میں ) وہ اشرف علی تھانوی کے شاگرد تھے ان کے بہت سے مرید بھی ہیں۔ آج بھی سینکڑوں چشم دید گواہ ایسے موجود ہیں جو ان کی شریعت کی پابندی کی گواہی دے سکتے ہیں ان کا تقویٰ و پرہیز گاری بے مثل تھی۔ اور وہ ایک بزرگ ولی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اشرف علی تھانوی کے عقائد کو رد کیا تھا یا نہیں؟ کسی کو نہیں معلوم کسی کے دل کا راز خدا بہتر جانے اور نہ ہی انہوں نے اپنی کوئی تصنیف لکھی جس کی رو سے ان کے عقائد کا اندازہ ہو سکے۔البتہ جو لوگ ان کے وعظوں میں شریک رہے ان کی قربت میں رہے وہ اس بات کے شاہد ہیں کہ زید ہمیشہ اہل سنت وفقہ حنفیہ کے پیرور ہے مگر ایک نو وارد عالم عابد جو نہ انہیں دیکھا نہ انہیں سنا چند حاسدوں کی کہی کہانی اور ان کے اشرف علی تھانوی کے شاگرد ہونے کے ناطے انہیں کافر کہتا ہے۔ (1) تو کیا اس عالم کا کہنا درست ہے؟ اگر ہے تو کس بنا پر؟ (۲) کسی کو کن وجوہات کی بنا پر کافر کہا جاسکتا ہے؟ (۳) اگر وہ کا فرنہیں تو عابد پر کیا کفارہ عائد ہوتا ہے؟
الجواب: (۱) اگر وہ اثر فعلی تھانوی کے عقیدہ کفریہ پر مطلع ہو کر اشرف علی تھانوی کو مسلمان سمجھتا تھا تو وہ خود بھی اسی کی طرح کافر مرتد و بے دین تھا اور عالم کو بہ ثبوت شرعی یہ خبر پہونچی کہ وہ انشر فعلی تھانوی کو مسلمان جانتا تھا تو ان عالم کا اس شخص کو کافر کہنا درست ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) ضروریات دین کے انکار یا منکر ضروریات دین کو مسلمان جاننے کی بنا پر۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تو بہ لازم ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم کتبه محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله