دیوبندی عقائد رکھنے والے اور مسجد میں گالی بکنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم اور گالی سے وضو کا حکم
زید جو ایک مسجد کا امام ہے جمعہ کے دن نماز جمعہ اور خطبہ سے قبل کچھ دیر عوام کو نصیحت کرتا ہے عقید تا دیو بندی ہے دوران تقریر بہت زیادہ بخش اور لغو باتیں بولتا ہے زبان پر کوئی لگام نہیں مثلاً ایک شخص مسجد کے پائخانہ میں گیا تو امام صاحب بولنے لگے جس کا بیچ ٹھیک نہیں اس کا پھل کیسا ہوگا؟ ماں باپ کو ٹھیک سے نماز پڑھنا نہیں آتا لیکن پائخانہ کے لیے چلا آتا ہے اس کے علاوہ بھی وہ بہت ہی گندے الفاظ بولتا رہتا ہے جس پر ایک آدمی نے کہا کہ خطبہ سے قبل آپ وضو کر لیں اس لیے کہ آپ بہت گندے گندے الفاظ بول چکے ہیں آپ کا وضو ٹوٹ گیا جس پر امام صاحب نے کہا کہ کون سی حدیث میں ہے کہ وضو ٹوٹ گیا دکھاؤ تب ہم وضو کریں گے بات بہت کچھ ہوئی لوگوں نے روک لگاؤ کر دیا اس کے بعد نماز اور خطبہ ہوا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں؟ اور امام صاحب کا وضوٹو ٹا یا نہیں شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ المستفتی : شریف الحق خاں کیراف انجم شو ہاؤس جام گوری شیری علی گوہاٹی کا ڈسپور آسام
الجواب: گالی بکنا حرام ہے اور مسجد میں گالی بکنا اور بھی حرام در حرام مگر اس سے وضو نہیں ٹوٹتا البتہ بہتر یہ ہے کہ دوبارہ وضو کرے اور اس امام کے پیچھے نماز باطل محض ہے کہ اس کی نماز نماز نہیں یہ اس لیے کہ دیو بندی عقائد کفریہ کے سبب علمائے حرمین شریفین و ہندو سندھ کے نزدیک ایسے کافربے دین ہیں کہ جوان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان سمجھے بلکہ ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے لہذا اگر فی الواقع امام دیوبندی ہے تو اس کی اقتدا اس کی محبت اس کا وعظ سننے سے سخت پر ہیز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۳ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ