دیوبندیوں سے میل جول اور ان کے یہاں کھانے کے متعلق حکم
شادی میں کھانا تھا دسواں میں کیوں کھایا لیکن چچانے لڑائی کر کے شادی میں کھایا اور کہا کہ ہم دیو بندیوں میں جا رہے ہیں اور چچا کے کھانے اور بہکانے میں جنہوں نے وہابیوں کو کافر کہا تھا وہ بھی کافی تعداد میں چلے گئے اور وہابیوں میں مل کر کھا یا اب شادی والے صاحب خانہ اور اس کے یہاں جنہوں نے کھانا کھایا ہے ان سب کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اگر چا اور جن لوگوں نے کھانا کھایا ہے اب وہ سنیوں میں مانا چاہیں تو کیا حکم ہے؟ براہ کرم مفصل تحریر فرما ئیں اور جواب صحیح بہت جلد سے جلد بھیج دیتا والسلام المستفتی : اکبر علی ،شوکت علی جگناتھ پور باڑہ، بسری ضلع بہرائچ
الجواب: وہ شخص جس کے یہاں شادی ہوئی اگر دیوبندیوں کو ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر مسلمان جانتا ہے تو وہ کافر مرتد بے دین ہے اس کے یہاں کھانا کھانا، اس سے میل جول حرام اور بد کام بدانجام ہے اور اس کے یہاں چلنے کی دعوت جس نے دی وہ ان سب کا سر دار سب سے زیادہ عذاب کا سزاوار ہے اور اگر و شخص دیو بندی نہیں نہ انہیں مسلمان سمجھتا ہے مگر ان سے میل جول ترک نہیں کرتا تو بھی یہ حکم ہے کہ جب تک تو بہ نہ کرے اور دیو بندیوں کے یہاں آنا جانا نہ چھوڑے اس سے میل جول منع ہے واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم ۱۳ /رجب المرجب ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی