کافروں کے تہواروں میں شریک ہونے والے اور پیشانی پر تلک لگانے والے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید جو ایک جواری آدمی ہے یہاں تک کہ لوگوں کو بلا کر اپنے گھر کے اندر جو اکھیلتا ہے اور آئے دن اپنی بیوی کو تنگ کرتا رہتا ہے غیر عورتوں سے بھی تعلق رکھتا ہے جو کہ کافر ہیں ان کافروں کے یہاں اپنی بیوی اور اپنی جوان لڑکی کو لے جانے میں مجبور کرتا ہے اگر وہ اس سے انکار کرے تو انہیں تنگ کرتا ہے ان کافروں کے سبھی کاموں اور تہواروں میں شریک ہوتا ہے۔ پیشانی پر تلک بھی لگا تا ہے ہاتھ میں راکھی بھی باندھتا ہے جس قسم کی گالی اپنی بیوی کو دیتا ہے اس قسم کی گالی اپنی لڑکی کو بھی دیتا ہے اور کافروں پنے گھر میں لے جاتا ہے اگر اس کی بیوی اور لڑکی ان کافروں سے پردہ کرتی ہیں تو ان کو بہت تنگ کرتا ہے اس وقت زید کی بیوی اپنے میکے میں ہے زید اپنی بیوی کو ایک طلاق بھی دے چکا ہے اس کی بیوی وہ دونوں طلاقیں بھی لینا چاہتی ہے۔ زید کی بیوی کسی بھی حال میں زید کے گھر جانے کو تیار نہیں ہے زیدا اپنی دولڑکیوں کی شادی کر چکا ہے جس میں ایک لڑکی کا ابھی صرف نکاح ہوا ہے، رخصتی نہیں ہوئی ، وہ اپنے بہنوئی کے گھر ہے اگر زید کی بیوی روزہ نماز کی زیادہ پابندی کرتی ہے تو وہ اسے بھی برا سمجھتا ہے۔ اور زید کی بیوی مفتی اعظم ہند سے بیعت بھی ہے۔ جواب عنایت فرمائیں۔ مہربانی ہوگی۔ السائلہ: شاہ جہاں بیگم نیا شہری ، بناری پوری، بریلی، یوپی
الجواب: زید کی بابت جو کچھ درج سوال ہوا وہ اگر سچ ہے تو زید دین کی قید سے آزاد ہے۔ جب تک مراسم شرک سے تو بہ نہ کرے مسلمان نہ ہوگا اور زید بے قید کی عورت اس کی قید نکاح سے آزاد ہوگئی۔ بعد عدت عورت جس سے نکاح جائز ہو اس سے کر سکتی ہے۔ در مختار میں ہے: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح واولاده أولاد زنا ومافيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح اه واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ (1) الدر المختار، کتاب الجهاد، باب المرتد، ج ۲، ص ۳۹۰، دار الكتب العلمية، بيروت