حضور علیہ السلام کو گالی بکنے والا کافر !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (1) زید حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پر نور کہنے پر روکتا ہے اور گالیاں دیتا ہے۔ (۲) صلوۃ وسلام پکارنے پر کہتا ہے کہ میری عمر ستر سال کی ہوگئی ہے آج تک مولوی کہاں تھے مر گئے تھے اسی صورت میں مسجد سے شارع عام تک گالیاں دیتا ہوا گیا اور کہا کہ یہ مولوی عالم روزنئی باتیں نکالتے رہتے ہیں اور ماں بہن کی بھی گالیاں مولوی حضرات کو دیتا ہے اور اعلیٰ حضرت کی ذات کو بھی گالیاں دیتا ہے، مدت دراز سے جو بھی امام اس مسجد میں آیا مقتدیان اہل محلہ کا کہنا ہے کہ زید نے ہر ایک امام کو گالیاں دیں ہیں اور بے عزتی کی ہے اگر کوئی نیا مقتدی لاعلمی میں اس سے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے تو زید اس کا ہاتھ جھٹک دیتا ہے اور اس کو برا کہتا ہے زید کے بارے میں اہل سنت کا کیا فیصلہ ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں تسلی بخش جواب عنایت کریں۔ لمستفتی : شفاعت علی خاں محلہ صوفی ٹولہ، بریلی شریف
الجواب: (۱) زید پر تو به وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے کہ علماء کی تو ہین کفر ہے۔ اشباہ میں ہے: "الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر) الاشباھ والنظائر مع الحموی باب الردۃ، کتاب السیر، ج ۲، ص ۸۷ ، مکتبہ زکریا تو بہ نہ کرے تو مسلمان اس سے قطع تعلق رکھیں اور مسجد میں اسے نہ آنے دیں۔ در مختار میں ہے: ويمنع منه وكذا كل مؤذولو بلسانه (۱) (۲) وہ وہابی غالی معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله