دیوبندیوں سے صلح و مصالحت کے معاہدہ پر دستخط کرنے والوں کے بارے میں شرعی حکم
چند علمائے اہل سنت اور چند دیوبندیہ کے درمیان ایک مجلس میں ما بین الفریقین کچھ امور پر صلح و مصالحت کی گفتگو ہوئی اور وہ گفتگو بشکل قرار داد تحریر میں آچکی ہے۔ اصل کا فوٹو علمائے فریقین کے دستخطوں کے ساتھ حاضر خدمت ہے اس تحریر پر د خلط کرنے والے حضرات پر جو شرعی حکم عائد ہوتا ہے اس کو دلائل و براہین کی روشنی میں واضح فرمائیں کیا ان حضرات پر تو بہ وتجدید ایمان و نکاح لازم ہے یا نہیں؟ کیا یہ علمائے مذکورین جماعت اہل سنت سے خارج ہیں یا نہیں؟ کیا ایسی تحریر پر دستخط کرنے والے پر برضا و رغبت اور باوجود افہام و تفہیم کے رجوع نہ کرنے پر کیا ان کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ وہابیوں، دیو بندیوں کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کا کیا فتویٰ ہے؟ قرار داد مندرجہ ذیل ہے۔ بینوا توجروا جواب مندرجہ ذیل پتہ پر ارسال فرمائیں۔ Imam Ahmed Raza Academy 29/22, Lorine Streed Durphan 4881 South Africa, Phone: (031) 313642 المستفتی: فقیر عبدالهادی قادری رضوی مصطفوی صدر امام احمد رضا اکیڈمی، ڈربن ، جنوبی افریقہ
الجواب: وہابیہ دیوبندیہ نے اپنی کتابوں میں اللہ عز وجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح اہانتیں لکھیں اور شائع کیں اس لئے علمائے حرمین شریفین و مصر و شام وہند وسندھ نے بیک زبان انہیں ایسا کافر و مرتد فرمایا کہ جو ان کے کفریات پر مطلع ہو کر انہیں کا فرنہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی انہیں کی طرح کا فربے دین ہے۔ دیکھو حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ (۱) اور جب یہ لوگ باتفاق علماء اہل سنت اپنے کفری عقائد کے سبب کافر و مرتد ہیں اور مرتد سے معاملت حرام تو یہ لوگ اس لائق ہی کب ہیں کہ ان سے کسی معاہدہ پر مبنی مصالحت واتفاق کیا جائے اور پھر معاہدہ بھی امور دینیہ میں جو مسلمانان اہل سنت کا فرعی معاملہ ہے اگر اس معاہدہ میں قرارداد نمبر ۲ نہ ہوتی جب بھی حرام بد کام بد انجام ہوتا اب کہ اس میں وہ قرار داد ملعون بھی شامل ہے جس میں لکھا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہوئے مجموعی حیثیت سے۔ الخ‘ معاہدہ کفر خالص ہو گیا۔ جولوگ اس معاہدہ سے راضی ہیں اور جنہوں نے دانستہ دستخط کیے ان سب پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی والے تجدید نکاح بھی کریں۔ اور ان لوگوں کی امامت نادرست اور ان کی اقتدا میں نماز باطل محض ۔ جب تک تو بہ صحیحہ نہ کرلیں اور صلاح حال ظاہر نہ ہو جائے انہیں امامت سے علیحدہ رکھا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۳ ربیع الاول ۱۴۰۸ھ