دیوبندی مصنفین کی کتابیں پڑھنے اور غیر مقلدین یا بد مذہب امام کے پیچھے نماز کا حکم
بڑائی بیان کرتا ہے۔ ہم لوگوں کو اس کتاب میں غلطیاں کیا ہیں، معلوم نہیں ہوتا ہے اور یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ لکھنے والے کس عقیدے سے واسطہ رکھتے ہیں۔ آپ وضاحت فرمائیں کہ کیا وہ کتاب مسجد میں مقتدیوں کو پڑھ کر سنائی جائے یا نہیں اور لکھنے والے کا عقیدہ کیا ہے؟ ذراسی وضاحت فرما ئیں۔ عین نوازش ہوگی اور اس کتاب میں اگر غلطیاں ہوں تو ایک آدھ غلطی کی بھی وضاحت کریں۔ (۲) زید امام ہے اور سرکار دو عالم کا نام لینے پر احتراما انگوٹھا چومتا نہیں اور خطبۂ ثانی ( یعنی جمعہ ) میں درود مبارکہ نہیں پڑھتے ایسے کو امام بنایا جائے یا نہیں؟ وضاحت کریں۔ المستفتی: ایس۔کے۔ شیخ احمد، پی۔ ایس۔ای۔ قاضی محلہ ضلع شموگہ، کر نانک
الجواب: مولوی زکریا کاندھلوی دیوبندی جماعت سے تعلق رکھتا ہے اور دیو بندیوں نے اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں لکھ کر شائع کیں اور ان کے پیرو کار آج تک چھاپ رہے ہیں۔ اور یہ لوگ ضروریات دین کے منکر ہیں۔ انہیں علمائے حرمین شریفین و مصر شام و ہند وسندھ نے ایسا کا فرفرمایا کہ جو ان کے کفر پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ انہیں کی طرح کا فر ہے (۱) اور کافر کی تعظیم شرعاً کفر ہے۔ لہذا انہیں مستند و معتمد بنانا شرعاً حلال نہیں اور ظاہر ہے کہ بد مذہب کی کتاب اور اس کے وعظ سننے سے اس کی عظمت دل میں آئیگی اور یہ غارت گرا ایمان ہے لہذا اسے حلال نہیں کہ دیوبندی کی تصنیف پڑھے نہ پڑھ کر دوسروں کو سنائے اور اگر وہ ایسا اپنی بد عقیدگی کے سبب کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ اس کے عقائد کی تحقیق کیجئے اور تا ظہور حال اس کی اقتداء سے باز رہیں۔ یہی حکم دوسرے سوال کا بھی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مع الترجمہ، ص ۹۰ رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی