گستاخِ رسول کی دعوت، جلسہ سیرت کے مقابلے میں قوالی اور بد مذہبوں کے جلسوں میں علماء کی شرکت کا حکم
دعوت قبول فرمائی اور خوب خوب کھائے ۔ کیا عند الشرع اُن پر تو بہ واجب ہے؟ اور جنہوں نے دعوت منظور کرائی اُن کے لئے کیا حکم ہے؟ (۳) چند احباب نے مل کر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اجلاس رکھا اور علمائے اہل سنت کو مدعو کیا۔ مگر چند اشخاص نے مخالفت کی اور جلسہ کو نا کامیاب کرنے کے لئے اسی تاریخ میں قوالی کا پروگرام رکھ دیا بہت سمجھایا گیا مگر نہیں مانے۔ اس کے ڈھولک اور مزامیر کی آواز جلسہ میں آتی رہی ۔ ایسے اشخاص کے لئے عند الشرع کیا حکم ہے؟ (۴) جانتے ہوئے بد مذہبوں کے اجلاس میں علماء کی شرکت کیسی ہے؟ عوام الناس کا کہنا ہے کہ علما ہم لوگوں کو روکتے ہیں اور اپنا وقت آتا ہے تو خود شرکت کرتے ہیں اور ذبیحہ کھاتے ہیں اور کہیں منع کرتے ہیں کیا ایسے علماء قائد اہل سنت ہو سکتے ہیں؟ المستفتی ،تحصیل احمد رضوی دار العلوم رضائے مصطفی ،لوکہا ، مدھوبنی ، بہار
الجواب: (۱، ۲) گستاخ رسول علیہ الصلوۃ والسلام اجتماعاً کا فر و مرتد بے دین ہیں ان کا ذبیحہ حرام بد انجام ۔ اس حکم میں علما و عوام سب برابر ہیں۔ علما کے لئے کچھ تخصیص وجوب نہیں بلکہ علماء پر اس صورت میں مواخذہ شدید ہے کہ بد مذہبوں سے اُن کا ملنا ہزاروں عوام کے ارتداد و گمراہی کا موجب ہوگا۔ زید و عمر وغیر ہما سب اشتد گنہ گار، مستوجب نار مستحق غضب جبار ہوئے۔ ان سب پر تو بہ لازم ہے اور جو دعوت قبول کرانے کا باعث ہوئے وہ بھی تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سخت گنہ گار ہوئے، تو بہ کریں ورنہ ہر مسلم واقف حال پر فرض کہ انہیں چھوڑ دے کہ تو بہ کرنے پر مجبور ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حرام بد کام بدانجام ہے اور ایسے لوگ قائد اہل سنت کہلانے کے مستحق نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳/شوال المکرم ۱۴۱۲ھ