نام نہاد جماعت اسلامی، وہابیوں کی نمائندہ جماعت ہے!
(1) جماعت اسلامی سے متعلق علمائے اہل سنت نیز سر کار مفتی اعظم ہند کیا خیال فرماتے ہیں؟ او اس جماعت سے متعلق لوگ مسلمان ہیں یا نہیں؟ (۲) اہل سنت و جماعت کی مساجد میں ان کو نماز پڑھنے دیا جائے یا نہیں؟ اور اگر یہ جماعت میں حاضر ہوں تو صف میں شامل ہونے دیا جائے یا نہیں؟ (۳) کیا جماعت اسلامی کا وہی عقیدہ اور ایمان ہے جو دیو بندیوں اور وہابیوں کا ہے؟ جواب سے نوازیں۔ عین کرم ہوگا۔ غلام محمد کیراف مولا ناسمیع اللہ صاحب
الجواب: نام نہاد جماعت اسلامی وہابیوں کی نمائندہ جماعت ہے۔اس کے وہی عقائد ہیں جو وہابیہ کے ہیں۔ اس کے علاوہ بانی جماعت مذکورہ کھلا منکر حدیث ہے۔ تنقیحات میں صاف لکھا ”کتاب وسنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر وحدیث کے فرسودہ ذخیروں سے نہیں“ [ تنقیحات ] اس کے ہفوات کی تفصیل کے لئے ۔ ” مودودیوں کا الٹا مذ ہب جماعت اسلامی (علامہ ارشد القادری) وغیرہ دیکھو۔ پھر یہ لوگ دیو بندیوں کو مسلمان جانتے ہیں۔ تو انہیں کی طرح کا فر ومرتد ہے دین ہیں انہیں اپنی مساجد میں آنے دینا حرام بد کام بد انجام ہے اور ان کا شامل جماعت ہونا صف کو منقطع کر دے گا لہذا ہر گز روانہ رکھا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۱؍ جمادی الآخر ۱۳۹۹ھ