سجادہ نشیں کا معنی، خلیفہ کی شرائط ، بے عذر ترک جماعت جائز نہیں، خانقاہ میں یا کہیں بھی پیر یا کسی کی تصویر لگانا جائز نہیں!
حضرت مولینا مولوی مفتی صاحب قبلہ مدظلہ العالی السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ذیل کے مسائل میں کہ : (1) سجادہ نشیں، جانشیں، گدی نشیں، کس کو کہتے ہیں ان کے لئے کیا کیا شرائط ہیں؟ اور ان کا کام کیا ہے۔ (۲) ایک پیر صاحب قبلہ کی اولاد اور مرید اور خلیفہ ہیں یہ حضرت بغیر وصیت کے انتقال کر گئے ہیں ایسی صورت میں سجادہ نشیں کون ہو؟ اور ان کو مقرر کرنے کا حق کس کو ہے؟ ایسی صورت میں بستی کے عوام کا کام کیا ہے؟ کیا یہ بھی اپنی رائے پیش کر سکتے ہیں یا نہیں؟ (۳) خلیفہ کیسے شخص کو کیا جائے اس کے اندر کیا کیا شرا کا ہونا چاہیئے۔ (۴) نماز پنجگانہ خانقاہ ہی میں جماعت کے ساتھ ادا کریں تو کیسا ہے وہاں پر مسجد کی اذان کی آواز بھی سنائی دیتی ہے کیا یہ جائز ہوگا یا نہیں۔ (۵) خانقاہ میں ان کے پیر کی تصویر لگانا جائز ہے یا نہیں؟ لمستفتی بمحمد سرمد پاشا قادری ہاسپیٹ ضلع بلاری صو بہ کرنا ٹک
الجواب: (1) سنی صحیح العقیدہ عالم باعمل ، صاحب سلسلہ متصلہ غیر منقطعه مازون ومجاز بیعت از متخلف ،خود ہونا تو ، ہر پیر کیلئے ضروری ہے اور سجادہ نشیں کے لئے ان شرائط کے استجماع کے بعد ضروری ہے کہ :[1] متخلف نے اس کیلئے نص و تصریح فرمادی ہو یا [۲] اہل حل و عقد نے اسے جانشین مقرر کیا ہو یا [۳] باتفاق اکثر مسلمین وہ منتخب ہوا ہو اور جانشینی و جاده شینی گدی نشینی ایک ہی بات ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) اس کا جواب نمبر ایک سے ظاہر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) خلیفہ کی شرائط گزریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) مسجد کی حاضری اور جماعت شرعیہ کی پابندی لازم ہے بے عذر اس کا ترک نا جائز وگناہ ہے لہذا اگر عذر شرعی نہ ہو تو خانقاہ میں جماعت کرنا منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) حرام اشد حرام بد کام بد انجام بلکہ کفر نما کام ہے کیوں کہ پیر کی تصویر کے ساتھ عموما وہی آداب تعظیم و توسل و اعتقاد برزخیت ہوتا ہوگا جو پیر کے ساتھ ہوتا ہے اور حرام کو حلال ماننا کفر ہے ۔لہذا توبہ واحتر از فرض ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ ذیقعدہ ۱۴۱۳ھ