پیر کا غیر محرم عورتوں سے خلوت، ہاتھ پیر دبوانے اور ساتھ سلانے کی شرعی حیثیت
پر آرام کراتے ہیں اور اپنی گڑی پر بٹھاتے ہیں اپنے ہمراہ رات کو سلاتے بھی ہیں اس کو کمرہ بند کر کے اور کنڈی لگا کر پیر صاحب مریدنی سے سر میں تیل مالش، کنگھی کراتے ہیں ہاتھ پیر کر بھی دبواتے ہیں جس کے دیکھنے والے کم سے کم ساٹھ ستر مرد عورتیں گواہ ہیں جنہوں نے بچشم خود دیکھا ہے از روئے طریقت و شریعت جائز ہے کیا کسی نامحرم سے یہ سب کام لیا جا سکتا ہے۔؟ (۳) چند اشخاص جو مرید بھی ہیں اور ان سے عقیدت بھی رکھتے ہیں ملتے جلتے ہیں اکثر مسلمانوں کے اعتراض پر جسمیں ان کے مرید بھی ہیں مردوزن ، کیا ایسے شخص سے جو شریعت کو مجروح کر رہا ہو اور اولیاء کرام کی تو ہین، کیا ایسے شخص سے میل جول رکھنا اس کی صحبت میں بیٹھنا جائز ہے؟ ایسا شخص مسلمانوں کے زمرہ میں رہ گیا ؟ (۳) کیا جو حضرات بیعت کر چکے اور بیعت کر رہے ہیں ان کی بیعت فسخ ہے یا قائم ہے کی ان کا پیرہ گیا؟ (۵) کیا خود پیر صاحب کی جن بزرگوں سے مرید ہے بیعت قائم ہے۔؟ برائے کرم شریعت اسلامیہ کی مکمل تشریح کے ساتھ مطلع فرمائیں ۔ لمستفتی : ایچ ،ایم ،حنیف قادری، دہلوی
الجواب: ۶۷ / پیرزادگان، شہید چوک کھالا مظفر نگر یوپی غیر عورتوں کا ہاتھ پکڑ نا حرام بد کام بد انجام ہے اور غیر محرم کے ساتھ خلوت میں رہنا ہی حرام اور ہاتھ پیر د بوانا، ساتھ سونا تو حرام در حرام ہے۔ اور وہ شخص سخت گنہ گار مستوجب نار مستحق غضب جبار ہے۔ اور نالائق پیری ہے۔ اور اگر ان محرمات کو جائز سمجھتا ہے تو مسلمان ہی نہیں اور اس سے بیعت ہونا حرام اور اس کی صحبت سخت زہر اشد حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۹ صفر المظفر ۱۴۰۴ و نزیل گنگٹی صبح الجواب : واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی