پیر و مرشد کا مفہوم، بیعت کی ضرورت، کامل مرشد کی پہچان اور بس میں نماز کا حکم
ابھی تک بیعت لے سکا لہذا آپ میری اس پریشانی کو دور کرنے کے لئے کسی سنی کامل بزرگ کا تعارف کرائیں جس سے میں بیعت لے سکوں ان کا پورا پتہ میرے لئے تحریر فرمائیں۔ (۴) ایک مسلمان حجام کو میلاد شریف میں حاضر ہونے کیلئے پوری جماعت کو اذن عام دینے کیلئے کہا گیا تو اس نے کہا کہ ۵ روپیہ لونگا اگر ۵ روپے نہیں دیتے تو میں نہیں جا سکتا۔ ۵ روپے نہ ملنے کی وجہ سے وہ اذان دینے نہیں گیا۔ جس سے جماعت میلاد شریف میں حاضر نہ ہوسکی یہ کام رواج کے مطابق حجام کا ہوتا ہے مگر مخنتانہ کا کوئی حد یہ مقرر نہیں غریب آدمی اتناهد یہ نہیں دے سکتا شریعت کے مطابق حجام کے لئے کیا حکم ہے؟ (۵) میں ایک ایسے محکمہ کے اندر نوکری کرتا ہوں کہ روزانہ سفر کرنا پڑتا ہے اور بعض جگہ ایسی ہوتی ہے جہاں کافروں کا ماحول ہوتا ہے وہاں سر عام نماز پڑھنے میں خطرہ رہتا ہے ۔ جس سے میں بس کے اندر سیٹ کے اوپر ہی بیٹھ کر نماز ادا کر لیتا ہوں اس حالت میں مجبوری کی وجہ سے میری نماز ٹھیک حالت میں ہوئی یا نہیں اس کا بھی خلاصہ لکھیں اور لکھے سوالوں کا جواب جلدی روانہ کریں مہربانی ہوگی ۔ آپ کا خاکسار: اسیدا بن انس قادری ، اسیدی پور، پوسٹ را ہر ضلع کچھ، صوبہ گجرات
الجواب: (۱) پیر اور مر شد دونوں لفظوں کا مفہوم ایک ہے۔ وھو تعالیٰ اعلم (۲) کسی کو مرشد بنانے کے لئے اس کے ہاتھ پر بیعت ضروری ہے اور بیعت تو بہ کا اقرار ہے جو مرشد اپنے مرید سے کراتا ہے۔ اس کے لئے مرشد کا عالم ظاہری میں ہونا ضروری ہے۔ ہاں اولیاء اللہ کو اپنا ہادی اور ہبر سمجھنا چاہئے ۔ واللہ تعالی اعلم (۳) کامل مرشد برحق کیلئے حضرت مفتی اعظم مدظلہ العالی کی طرف رہ نمائی کی جاتی ہے ۔ پتہ درج ذیل ہے: حضرت مفتی مولینا مصطفی رضا خاں صاحب مفتی اعظم ہند، محلہ سوداگران بریلی شریف (۴) حجام مذکور پر کوئی الزام نہیں ۔ وھو تعالی اعلم (۵) بیٹھ کر نماز فرض درست نہیں دوبارہ پڑھنی لازم ہے۔ وہو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ رشوال المکرم ۱۳۹۱ھ/ ۲۴ /نومبر ۱۹۷۱ء