وسیلہ سے مراد بیعت مرشد ہونے کا ثبوت اور منکرین تصوف، غیر مقلدین اور مودودی فرقے کا رد
مولوی خرم علی بلہوری نے شاہ عبد العزیز صاحب کے دادا شاہ عبدالرحیم صاحب کا قول ”شفاء العلیل، میں نقل کیا کہ وسیلہ سے مراد بیعت مرشد ہے۔ (۱) اور امام الطائفہ میاں اسمعیل دہلوی نے خود سید احمد رائے بریلوی سے بیعت کی اور وہ مرید تھے شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی کے اب ان لوگوں سے پوچھو کہ امام الطائفہ پر اور ان کے خاندان پر کیا حکم لگاتے ہو جو حکم امام الطائفہ وخاندان امام الطائفہ پر تمہارے عقیدہ میں لگتا ہے تم پر بھی ضرور ہوگا۔ بالجملہ ثابت کہ اولیا کے طرق کا انکار اور ان کی دشمنی خدا اور سول کی دشمنی ہے والعیاذ باللہ تعالیٰ (۲) وہ دہرئیے محمد فقیر و ولی بننے والے کہتے ہیں : شریعت راستہ ہے ہم تو پہنچ گئے ہیں ہمیں راستے سے کیا کام؟ ان خبیثوں کا رد ہمارے رسالہ ”مقال عرفا با عزاز شرع وعلماء میں ہے۔ (۳) وہ جاہل اجہل کہ بے پڑھے یا چند کتابیں پڑھ کر بزعم خود عالم بن کر ائمہ سے بے نیاز ہو بیٹھے جیسا قرآن وحدیث ابوحنیفہ و شافعی سمجھتے تھے ان کے زعم میں یہ بھی سمجھتے ہیں، بلکہ ان سے بھی بہتر کہ انھوں نے قرآن وحدیث کے خلاف حکم دیئے یہ ان کی غلطیاں نکال رہے ہیں یہ گمراہ بددین غیر مقلدین ہوئے ۔ اقول ، مودودی ، ان کے ہم خیال بلکہ ان سے بھی بڑھ کر گمراہ ہے کہ تنقیحات میں کہتا ہے: قرآن وحدیث کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر وحدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں ، یہ صاف حدیث کا انکار ہے تو اس جماعت کے نزدیک تو بغیر تفسیر وحدیث کے بھی نجات ہو جائے گی تو وہ آپ ہی کہیں کہ بغیر طریقت کے نجات ہو جائے گی۔ (۴) اس سے بدتر وہابیت کی اصل علت کہ تقویت الایمان پرسرمنڈا بیٹھے ،اس کے مقابل قرآن وحدیث پس پشت پھینک دیئے، اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک اس ناپاک کتاب کے طور پر معاذ اللہ مشرک ٹھہریں اور یہ اللہ ورسول کو پیٹھ دے کر اسی کے مسائل پر ایمان لائیں۔ اقول جماعت اسلامی بھی اسی کتاب نام نہاد تقویۃ الایمان کی معتقد ہے دیکھو تجدید واحیائے دین و تفہیمات وغیرہ۔ (۵) ان میں بدتر دیوبندی کہ انھوں نے گنگوہی و نانوتوی وتھانوی اپنے احبار ورہبان کے کفر کو اسلام بنانے کے لئے اللہ ورسول کو سخت سخت گالیاں قبول کیں اور ایسے کافر ہیں کہ علمائے عرب و عجم نے فرمایا: من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۱) جوان کے عقائد کفریہ جان کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کا فر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین شریف! اور مودودی انھیں مسلمان سمجھتے ہیں تو انھیں کی طرح کافر ہیں (1) قادیانی (۷) نیچری (۸) چکڑالوی (۹) روافض (۱۰) خوارج (۱۱) نواصب (۱۲) معتزلہ وغیر ہم ۔ بالجملہ نجات مرشد عام که کلام الله وكلام رسول و کلام ائمه وکلام علما ہے، کی بیعت پر موقوف ہے بیعت خاصہ پر نہیں، مگر بیکار وہ بھی نہیں بلکہ دنیا و آخرت میں مفید ہے، مگر اس کا ترک نافی فلاح نہیں اسی لئے اکا برائمہ وعلماء سے یہ بیعت خاصہ ثابت نہیں ، یا کی تو اخیر عمر میں بعد حصول مرتبہ امامت اور وہ بھی بیعت برکت جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی نے سید الدین قدس سرہ کے دست مبارک پر کی، ہاں جو اس کا ترک بوجہ انکار کرے اسے مطلقاً باطل ولغو جانے جیسا کہ وہابیہ کی عادت ہے وہ ضرور گمراہ و بے فلاح ہے۔ یہاں سے حکم مسئلہ ظاہر اور طریقت سے مراد تصوف ہے جو تصفیہ باطن سے عبارت ہے تو اس معنی کر کے طریقت شریعت کی فرع ہے، اس کا انکار شریعت کا انکار ہے اور عقل کی دشمنی ہے جو ریا و عجب وحسد وکینہ وتکبر و حب مدح وحب جاہ و محبت دنیا طلب شہرت تعظیم امراء وتحقیر مساکین واتباع شہرت و مداہنت و کفران نعمت و حرص و بخل و طول اہل وسوئے ظن و اصرار باطل و عناد حق و مکر وغدر وخیانت و غفلت وقسوت وطمع و تملق وغیر ہا بہت سے امراض قلبی ( کہ جس میں اکثر کی برائی عقول عوام میں مقرر ہے ) سے دل کے تصفیہ کی جدو جہد کو برا سمجھے گا اور ان کے ہوتے ہوئے ایمان پر سخت اندیشہ اور ظاہری تقوی بھی دشوار اور ان امور کو ہلکا جانے تو انکار ہے تو سرے سے ایمان ہی نہیں نجات کیسی ؟ [ مختصر او ملتقطا ] (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ (1) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) (۲) العطايا النبوية في الفتاوى الرضويه مترجم ، ج ۲۱ ، ص ۵۰۵ تا ۵۱۳ برکات رضا