پیری مریدی کی شرعی حیثیت، پیر کی شرائط اور بیعت کا طریقہ کار
ہوں۔ برائے کرم جلد از جلد جواب عنایت فرما کر احسان فرمائیے گا۔ فقط ۔ محمد طالب قادری رضوی ساکن این پی 12/21 حاجی محمد شفیع بلڈنگ، گولڈ اسمتھ اسٹریٹ ،میٹھادر، کراچی، پاکستان
الجواب: ۱۲؍ جمادی الآخر ۱۴۱۰ھ بروز بدھ مطابق ۱۰ جنوری ۱۹۹۰ء (۱) پیری مریدی اللہ ورسول جل و علا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طاعت اور دین پر استقامت کا عہد ہے جو مرید، شرعی پیر سے کرتا ہے۔ اور یہ سنت قدیمہ مستمرہ ہے جو سر کار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانہ سے چل رہی ہے ۔ قال تعالیٰ: اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ () یعنی وہ لوگ جو تم سے اے محبوب اس پیڑ کے نیچے بیعت کر رہے ہیں بے شک وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا دست قدرت ہے۔ تو بیعت کی اصل سنت سرکا را بد قرار علیہ الصلاۃ والسلام ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) [1] سنی صحیح العقیدہ - [۲] عقائد اہل سنت و جماعت سے واقف ضلالت و ہدایت کے فرق سے خوب آگاہ ، مسائل ضروریہ کا علم رکھتا ہو اور اس میں مستقل ہو کہ اپنی ضرورت کے مسائل کتب فقہ دیکھ کر نکال سکتا ہو ۔ [۳] منتفی ، غیر فاسق معلن - [۴] رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک سلسلۂ بیعت متصل رکھتا ہو اور اس سلسلہ کا شیخ لائق بیعت سے مرید کرنے کا مجاز ہو جو ان شرائط کا حامل ہو اس سے بیعت صحیح ہے۔ فتاویٰ افریقہ وغیرہ تصانیف اعلیٰ حضرت ملاحظہ ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جوان میں اعلم ، اتقی یا کسی لحاظ سے اقدم ۔ واللہ تعالی اعلم (۴) شرعاً کوئی عمر مقرر نہیں ، ایک دن کے بچے کو بھی مرید کرایا جاسکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بزرگان دین بالخصوص سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ منہم کے لئے فاتحہ پڑھے پھر تجدید ایمان کرائے پھر استقامت واتباع شریعت کا عہد لے کر سلسلہ میں داخل کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) وکیل وہ ہے جسے شیخ کامل نے لوگوں کو اپنا مرید کرنے کا وکیل کیا ہو اس صورت میں وکیل کے ہاتھ پر بیعت ہونے والا اس شیخ کا مرید قرار پائیگا۔ خلیفہ وہ ہے جسے شیخ نے اپنے سلسلہ میں بیعت کرنے کی اجازت دے دی ہو اس صورت میں مرید خلیفہ کا ہوگا۔ اور طالب وہ ہے جو پہلے کسی لائق بیعت سے مرید ہوا اور بیعت صحیح ہو کسی طرح سے فسخ نہ ہوئی ہو پھر وہ اس پہلی بیعت پر قائم رہتے ہوئے طلب فیض کے لئے دوسرے شیخ کا ہاتھ پکڑے اور پیر ومرید معروف ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) بیعت اگر قائم ہو اور نسخ نہ ہوئی ہو تو دوسرے سے بیعت ہونا جائز نہیں ہے کہ یہ نقض عہد ہے اور نقض عہد شرعاً حرام ہے۔ قال تعالیٰ: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) قادری سلسلہ میں مرید ہونا زیادہ بہتر ہے کہ سلسلہ قادریہ بہترین سلاسل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) ایک پیر کی موجودگی سے کیا مراد ہے؟ (۱۰) درست ہے مگر بشرائط مذکورہ مقصد طلب فیض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۱) بیعت درست ہے جبکہ جامع شرائط شیخ سے بیعت کی ہو کہ اس میں نابالغ کا صلاح و نفع ہے اور نابالغ کا ایسا تصرف حق جواز رکھتا ہے۔ لہذا شرعایہ بیعت جائز ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) بیعت اگر صحیحہ شرعیہ ہو تو اعادہ کی حاجت نہیں اور تجدید کرے تو حرج بھی نہیں اور پیر کی وفات ہوگئی ہو تو وہی بیعت کافی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۳) ہو سکتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۴) کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۱۵) او پر گزرا کہ جامع شرائط شیخ سے بیعت کرنے کے بعد دوسرے سے بیعت ہونا درست نہیں۔ یعنی پہلے سے پھر کے دوسرے سے مرید ہو نا منع ہے۔ البتہ پہلے کی بیعت پر قائم رہتے ہوئے دوسرے سے طالب ہونا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۶) بیعت معہودہ شیخ کی زندگی ہی میں ممکن ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۷) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۸) پیر یا مرید معاذ اللہ بد عقیدہ ہو جائے تو بیعت صبح ہو جائے گی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۹) علماء نے شیخ پر بے جا اعتراض کو ارتداد فی الطریقہ فرمایا ہے۔ لہذا بدگمانی سے بچے اور تجدید بیعت کر لینا چاہئے ۔ واللہ تعالی اعلم (۲۰) بیعت شرعیہ کو توڑنے کا اختیار نہیں اور بیعت غیر شرعی پر قائم رہنا جائز نہیں۔ وہ شرعاً خودٹوٹ جاتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۱) (الف، ب، ج ) ہاتھ پکڑ کر اور عمامہ یا کپڑا پکڑ کر اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو اگلے آدمیوں کی پشت پر ہاتھ رکھ کر بیعت ہونا جائز ہے۔ واللہ تعالی اعلم ( د، ھ ) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۲) عورتوں کا ہاتھ پکڑنا جائز نہیں۔ قال علیہ الصلاۃ والسلام : انی لا اصافح النساء (1) وہ کپڑا پکڑ کے بیعت ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۳) اولیائے کرام کا اس پر اجماع ہے کہ داعی الی اللہ ہونے کے لئے ذکورت شرط ہے۔ تو عورت کا یہ منصب نہیں ۔ میزان امام شعرانی میں ہے: ،، وقد أجمع اهل الكشف على اشتراط الذكورة في كل داع الى الله (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۲۴) بیشک بیعت ٹوٹ جائے گی اب اس کی بیعت پر قائم رہنا حرام مضر ایمان ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۵) بیشک خلافت ختم ہو گئی اب اسے نئے سرے سے بیعت ہونا چاہیے اور خلافت لینی چاہیے ورنہ وہ مرید کرنے کا مجاز نہیں اور اس سے بیعت درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم ان پر کوئی حکم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ان کی بیعت درست نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم دوسرے پیر سے بیعت ہو پھر اگر وہ خلافت دے دے تو اسی کا سلسلہ جاری کرے لوگوں کو اسی کے سلسلہ میں مرید کریں اور شجرہ میں مرشد اجازت کا نام لکھیں اور بیعت میں دوسرے کی وکالت شیخ نہیں ہوتی ۔ لہذا وہ لوگ جنہیں اس نے کسی کی وکالت سے اس کا مرید کیا تھا ان کی بیعت نہ ٹوٹی مگر اب جبکہ اس سے والعیاذ باللہ کفر سرزد ہوا تو قبل تو بہ اس کی وکالت سے دوسرے کا مرید ہونا بھی حلال نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم علم ہونے کے بعد اس کی بیعت سے منحرف ہوں اور اسے اپنا پیر نہ جا نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ ہوسکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم مجذوب سے احکام متعلق نہیں۔ لہذا اس کا بیعت کرنا اس سے بیعت ہونا خلافت لینا دینا کیونکر متصور ہے کہ ان امور کے لئے درستی ہوش و ثبات عقل ضرور ہے اور مجذوب میں یہ امرنا موجود۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ ؍ رجب المرجب ۱۴۱۰ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی