آزر کو والد قرار دینے کے لیے پیش کیے گئے حوالوں کی علمی حیثیت
سوال
(۲) کیا زید نے جو حوالے دئے ہیں وہ درست ہیں؟ اور اگر غلط ہیں تو صحیح کیا ہیں؟ (زید نے مفردات راغب، تفسیر ابن کثیر، کتاب المحبر اور الاتقان کے حوالے پیش کیے تھے)۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
رہی مفردات کی عبارت تو وہ قیل سے شروع ہے اور قیل سے قول ضعیف کو تعبیر کرتے ہیں... اور اتقان کی عبارت کا جواب خود تصریحات امام سیوطی علیہ الرحمہ سے ہو گیا پھر خود اسی اتقان میں ہے: ولوالدى اسم ابيه تارح وقيل آزر... یعنی ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا نام تارح تھا اسی لئے اسے مقدم کیا اور آز رکو” قیل “ (جو مشعر ضعف ہے ) سے تعبیر کیا۔ یہاں سے ظاہر کہ انتقان کی وہ عبارت جو اس تصریح کے خلاف ہے ناسخ کی طرف سے ذلت قلم یا سہو ونسیان کا نتیجہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور اکثر علماء کے مقابل تنہا ابن جریر علیہ الرحمہ یا ابن کثیر کا قول کیونکر لائق تسلیم ہے؟ واللہ تعالیٰ اعلم۔
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۱۱–۳۱۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
کیا آزر کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا والد کہنے والا گمراہ ہے؟
باب: کتاب العقائد
آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے یا چچا؟
باب: کتاب العقائد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاحت اور لفظ نمکین کے معنی کی تحقیق
باب: کتاب العقائد
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حقیقی والد کا نام اور ان کا دین
باب: کتاب العقائد
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لفظ نمکین کے استعمال اور حدائق بخشش کے ایک مصرع پر اعتراض کا جواب
باب: کتاب العقائد