رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاحت اور لفظ نمکین کے معنی کی تحقیق
تو کوئی صورت صحیح نہیں کیونکہ یہ چند سطور ہی صرف عالم محویت کے ہوں تسلیم کیا جانا بعید از عقل ہے۔ اور عبارت منیری کے لئے بھی یہی جواب ہے اگر یہ ہو کہ پیارے مصطفی دائرہ نبوت کی ابتدا و انتہا ہیں تو ایسی صورت میں دوسرے نبی کا بشکل محمد عربی روحی فداہ امی وابی عالم وجود میں آنا ناممکن ہے۔ مگر یہ تو رہا جواب ورفعنا لک ذکرک کے تحت مگر منطقیانہ طور پر قدرت کے لئے کوئی ناممکن و محال تو نہیں ۔ کیونکہ ان اللہ علی کل شی قدیر میں داخل ہے۔ یہاں پر ایک اور شک ظاہر ہوتا ہے کہ جب پروردگار عالم نے عالم غضب وجلال میں محبوب علیہ الصلاۃ والسلام کو ارشاد فرمایا کہ اگر آپ رئیس المنافقین عبد اللہ بن سلول کی بخشش کی خاطر ایک نہیں ستر بار بھی دعائے بخشش چاہیں گے تو بخشش نہ ہوگی۔ (بقول مخالف ) ” آپ اس سے زیادہ تکرار کریں گے تو منصب نبوت سے معزول کر دئے جائیں گے “۔ اگر یہ خط کشیدہ جملہ نہ بھی سہی جب بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کا غیظ و غضب اپنی جگہ مسلم ہے۔ اللہ کی قدرت کا ملہ لامتناہی ہے تو ایسی صورت میں مخالف کا اعتراض صحیح اور کلام امام اہل سنت بعبارت بیجی منیری غلط ثابت ہوتا ہے۔ دونوں کلام میں خط امتیاز کھینچنے کی کسوٹی عنایت فرمائیں تا کہ مخالفین کو دندان شکن جواب دیا جا سکے۔ بینوا توجروا۔
الجواب:(1) نمکین کا ایسا معنی جو بھونڈا ہو کس لغت میں ہے؟ حاشانہ کسی لغت میں یہ معنی ملے نہ اس معنی میں لفظ نمکین مستعمل نہ یہ معنی اس کے محتل عرف شائع ہے کہ اسکو خوبی شمار کرتے ہیں اور عام طور سے کہتے ہیں کہ فلاں کے چہرہ میں نمک ہے اور حدیث میں خود حضور علیہ السلام سے وارد کہ اپنا وصف بیان فرمایا:(1) انا املح‘ (1) میں ملاحت والا ہوں۔ اور ملاحت و مکینی حسن ایک ہی بات ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم مدارج النبوۃ ج ۱، ص ۴، باب اول در بیان حسن خلقت و جمال صورت وے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مطبع رضویہ پبلشنگ کمپنی لا ہور (۲) فی الواقع حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی نظیر محال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو خاتم النبین نبی آخر الزماں فرمایا اور امت محمدیہ کا اجماع ہے کہ حضور علیہ السلام کا یہ وصف کسی تاویل و تخصیص کا ہرگز صالح نہیں، دیکھو شفاء قاضی عیاض۔ اور یہ بدیہی ہے کہ دو آخر نہیں ہو سکتے تو ثابت کہ آخر الانبیاء کا کوئی مماثل نہ ہو سکے۔ والہذا حضور علیہ السلام کے بعد نیا نبی نہیں ہوسکتا کہ یہ ختم نبوت کے منافی ہے لہذا حضور علیہ السلام کو آخر الانبیاء جاننامانامدار ایمان ہے اور اس کا خلاف منافی ایمان ہے۔ اشباہ میں ہے: اذا لم يعرف ان محمدا صلی الله علیه و سلم آخر الانبياء فليس بمسلم (1) اور اس عقیدہ میں تو ہین الوہیت نہیں بلکہ عہد کذب سے خدا کی تنزیہ وتقدیس ہے اور امکان نظیر کا قول تکذیب کلام الہی ہے اور حضرت یحییٰ منیری علیہ الرحمہ کا وہ قول اس عقیدہ کے مزاحم نہیں ہوسکتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور اس آیت کریمہ سے مخالف کا وہ مفروض مستفاد نہیں ہوتا یہ اس کی دریدہ دہنی ہے جو عصمت نبی علیہ السلام کے بالکل خلاف ہے اور اللہ تعالیٰ کے جلال کو غیظ سے تعبیر کرنا حرام ہے۔ سائل پر اس سے تو بہ لا زم ہے ۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۳ صفرالمظفر ۱۴۰۲ھ صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی