صلوۃ وسلام حضور خیر الانام علیہ السلام پر کسی وقت منع نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ہمارے یہاں رتلام شہر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ وصلوۃ وسلام کے لئے امام صاحب جو دیو بندی ہیں ان سے معلوم کیا تو امام صاحب نے فرمایا میری جانب سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آپ متولی صاحب سے معلوم کر لیں پہلے تو بڑی سختی سے انکار کیا بعد میں کہنے سننے کے بعد کہا کہ میں نہیں جانتا ہوں، نہ آج تک جامع مسجد میں صلوۃ وسلام پڑھا گیا۔ لہذا اب میں نہیں پڑھوں گا اگر پڑھنا ہے تو پرانے متولی صاحب سے معلوم کرو۔ صورت مسئولہ میں بعد نماز جمعہ صلوۃ وسلام پڑھنا کیسا ہے؟ اور جو لوگ منع کرتے ہوں، ان کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرما کر مشکور ہوں ۔ بینوا تو جروا۔ المستفتی : عبد الوہاب وعبد الکلیم
الجواب: صلوۃ وسلام حضور خیر الا نام علینا) پر کسی وقت منع نہیں۔ خداوند قدوس نے صلوۃ وسلام کا مطلق حکم فرمایا ہے اور جمعہ کے بعد تو حدیث شریف میں خصوصیت سے مطلوب ہے۔ ایک حدیث شریف میں ہے: (1) اكثر و ا من الصلاة على فى يوم الجمعة ) یعنی مجھ پر جمعہ کے دن درود زیادہ بھیجو كنز العمال ج ۱، ص ۲۴۷ ، كتاب الاذكار الباب السادس في الصلاة على. وعلى أله عليه الصلاة والسلام حديث نمبر ۲۱۳۷ ، مطبع دار الكتب العلمية بيروت الجامع الصغير مع فيض القدير حرف الهمزه، ج ۲، ص ۱۱۱، مطبع دار الكتب العلمية بيروت منع کرنے والوں کی ممانعت بر بناء گمراہی ہے۔ ان کی بات پر کان نہ دھریں، نہ ان سے میل جول رکھیں ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی