انبیاء خصوصاً سید الانبیاء علیہم السلام مرشدان راہ خدا اور وسیلہ توفیق و ذریعہ جنت ہیں
ایک شخص جن کی داڑھی ایک مشت سے کم ہے خطبہ جمعہ میں منبر شریف پر کھڑے ہو کر یہ کہے کہ انسان کو ہدایت دینا اور لینا صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے اس کے سوا کسی نبی یا ولی یا رسول کو نہیں ہے۔ اور حضور اکرم احد محبتی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں نہیں ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں یوں فرماتے ہیں، کہتے ہیں، اللہ دیکھتے ہیں ۔ ایسے الفاظ استعمال کرنا کیسا ہے؟ کیا ایسے شخص کو اپنا امام بنانا یا قاضی شہر یا خطیب بنانا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور ان کے جیسا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟ قرآن وحدیث وفقہ کی روشنی میں مطمئن جواب دیں۔ المستفتی بضمیر احمد رضوی القادری، جامع مسجد محله میسور
انبیاء خصوصاًسید الانبیاء علیہ وعلیہم التحية والثناء مرشدان راہ خدا اور وسیلہ توفیق و ذریعہ جنت ہیں ! الجواب: قرآن کریم میں دونوں طرح کی آیات ہیں ایک طرف حضور عالیشام سے ارشاد ہوا : إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ - الآية (1) یعنی اے محبوب بے شک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کر دو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے۔ یہاں سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ و السلام سے ہدایت کی نفی باتیں معنی فرمائی گئی کہ قلوب میں ہدایت کو پیدا فرمانا سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کا کام نہیں ہے بلکہ خالق ابتداء اللہ تعالیٰ ہے اور دوسری طرف سر کا را بد قرار علیہ الصلاۃ والسلام سے فرمایا: اور فرمایا: وَإِنَّكَ لَعَهْدِ قَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيم . (۲) یعنی بے شک اے محبوب تم سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرماتے ہو۔ وَجَعَلْتَهُمْ آيَةٌ يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا (۳) اور ہم نے اس میں سے پیشوا کیا کہ ہمارے حکم سے ہدایت دیتے ہیں۔ اور سر کار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام سے فرمایا: اور مومن قوم فرعون کا قول نقل فرمایا: وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (٢) اور ہر قوم کے ہادی ہو . يُقَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ (ه) یعنی اے میری قوم میری پیروی کرو میں تمہیں راستی کے راستہ کی طرف ہدایت دوں گا۔ سورة القصص : ۵۶ (۲) سورة الشورى: ۵۲ (۳) سورة الانبياء:۷۳ (۴) سورة الرعد:۷ (۵) سورة المؤمن:٣٨ ان آیات میں انبیاء واولیاء کی طرف ہدایت کی نسبت باعتبار دلالت ورہنمائی و بلحاظ مسبیت تو فیق الہی ہے یہاں سے معلوم ہوا کہ ہدایت کا اطلاق کبھی تو فیق ربانی پر ہوتا ہے اور اس معنی میں ہدایت بےشک خدا کے ساتھ خاص ہے اور کبھی دلالت و رہنمائی اور دعوت الی الحق پر ہوتا ہے اور یہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور اولیائے کرام کا وظیفہ ہے جو بارگاہ الوہیت سے انہیں تفویض ہوا ہے۔ مجمع الجار میں ہے: الهدی هدی محمد۔۔۔ وفسر الفتح بالطريق، والضم بالدلالة والارشاد وهو الذي يضاف الى الرسل والقرآن وباللطف والتوفيق وهو الذي تفرد به الله تعالى “ملتقطاً اور ہدایت بایں معنیٰ اس ہدایت کے لئے موقوف علیہ اور سبب ہے جو توفیق الہی سے عبارت ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا لہذا یہ پہلی اس دوسری کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ مفردات راغب میں ہے: الهداية التي جعل للناس بدعائه اياهم على السنة الانبياء وانزال القرآن ونحو ذلك وهو المقصود بقوله تعالى وجعلتهم ائمة يهدون بامرنا (الانبياء/۷۳ ) الثالث التوفيق الذي يختص به من اهتدى و هو المعنى بقوله تعالى: والذين اهتدوا زادهم هدی (محمد/۱۷) وقوله ومن يومن بالله يهد قلبه التغابن / ١١ ) وقوله ان الذين آمنوا وعملوا الصالحات يهديهم ربهم بایمانم (يونس/۹) وقوله والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا (العنكبوت / ١٩) ويزيد الله الذين اهتدو هدى (مريم/۷۶) فهدى الله الذين آمنوا (البقرة/۲۱۳) والله يهدي من يشاء الى صراط مستقيم (البقرة /۲۱۳) الرابع الهداية فى الآخرة الى الجنة التي بقوله سيهديهم ويصلح بالهم (محمد/۵) ونزعنا مافى صدورهم من غل (الاعراف/۴۳) الى قوله الحمدلله الذي هدانا لهذا، وهذه الهدايات الاربع مترتبة فان لم تحصل له الاولى لا تحصل له الثانية بل لا يصح تكليفه ومن لم تحصل له الثانية لا تحصل له الثالثة والرابعة ومن حصل له الرابع فقد حصل له الثلاث التي قبلها ومن حصل له الثالث فقد حصل له اللذان قبله ثم ينعكس فقد تحصل الاولى ولا يحصل له الثانى ولا يحصل الثالث والانسان لا يقدر ان يهدى احدا الا بالدعاء وتعريف الطرق دون سائر انواع الهدايات والى الاول اشار بقوله: وانک لتهدى الى صراط مستقیم (الشوری /۵۲) يهدون بأمرنا (السجدة /۲۴) ولكل قوم هاد (الرعد/۷) أى داع والى سائر الهدايات اشار بقوله تعالی انک لاتهدى من احببت (القصص /۵۶) (۱) اور جب ہدایت بمعنی توفیق الہی پر انبیاء واولیاء کی ہدایت و دلالت مرتب اور اس پر موقوف ہے تو یہ اعتقاد لازم ہے کہ انبیاء خصوصا سید الانبیاء علیہ وعلیہم التحیۃ والثناء اور اولیائے ہادیان دین مبین مرشدان راہ خدا و وسیلہ توفیق و ذریعہ جنت، جنکی عنایت اپنے پیروکاروں کو کسی حال میں بے سہارا نہیں چھوڑتی بلکہ نزع وسوال قبر و حشر و نشر اور ہر مرحلہ دنیا و آخرت انہیں کی ہدایت ان کے کام آتی ہے۔ میزان امام شعرانی میں ہے: وقد ذكرنا فى كتاب الاجوبة عن ائمة الفقهاء و الصوفية ان ائمة الفقهاء والصوفية كلهم يشفعون فى مقلديهم ويلاحظون احدهم عند طلوع روحه وعند سوال منكر ونكير له وعند النشر والحشر والحساب والميزان والصراط ولا يغفلون عنهم في موقف من المواقف واذا كان مشايخ الصوفية يلاحظون اتباعهم ومريديهم في جميع الاهوال والشدائد في الدنيا و الآخرة فكيف بائمة المذاهب الذين هم اوتاد الارض واركان الدين وامناء الشارع على امته رضی الله عنهم اجمعین - اه ملخصاً (۲) اور اسی سے پورے قرآن پر ایمان حاصل اور جو یہ نہ مانے وہ آفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضٍ الْكِتَبِ وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ (۳) کا مصداق ہو کر مکذب قرآن ہے اور بے دین و گمراہ ہے اور اللہ کے لئے جمع کا صیغہ بولنا وہابیہ کی خاص عادت ہے اس شخص پر تو بہ اور وہابیہ دیابنہ کے عقائد سے تہری اور ان کی تکفیر فرض ہے ورنہ وہ امام و خطیب ہونا ودر کنار مسلمانوں سے دور رہنے کے لائق بلکہ اس سے اجتناب اشد ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ، ۱۴ ؍رجب المرجب ۱۴۰۶ھ