حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لفظ نمکین کے استعمال اور حدائق بخشش کے ایک مصرع پر اعتراض کا جواب
فی الواقع حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نظیر محال ہے حضور کے لئے مکین" کا لفظ بولنا کیسا ؟ بحضور فیض گنجور آقائے نعمت مفتی صاحب قبلہ دام اقبالۂ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خیریت سے رہ کر حضور کی خیریت کا بارگاہ ایزدی میں ہمہ وقت طالب ہوں ۔ ضروری عرض یہ ہے کہ مندرجہ ذیل مسئلے کی بابت ایسا دل و کمل و تشفی بخش جواب طلب ہے جس سے خود بھی اطمینان ہوا اور اہل سنت کی طرف سے مخالفین کو دندان شکن جواب بھی دیا جا سکے۔ (۱) حضور اعلیٰ حضرت عظیم البرکت نے اپنی کتاب ” حدائق بخشش میں جو سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی طرحی مصرع ہے اس میں حضور شہنشاہ دو عالم سر کار محبوب پروردگار کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے ایک جگہ لفظ نمکین ارشاد فرمایا ۔ تو ہمیں یقین کامل ہے کہ فاضل بریلوی علیہ الرحمہ بہت محتاط نظر تھے پھر بھی ایسا لفظ ارشاد فرمایا، بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ایسا لفظ جس کے معنی ٹھیک مگر بڑے بھونڈے کا سا مطلب سمجھا جاتا ہے، اسے کیوں ارشاد فرمایا ؟ علاوہ ازیں قرآن مقدس نے پیارے محبوب علیہ الصلاۃ والثناء کو عند المخاطب راعنا “ جبکہ بھونڈے معنی چرواہے کے تھے اور یہودیوں کی بد نیتی تھی تو ” راعنا“ کی جگہ انظرنا “ کہنے کو ارشاد فرمایا۔ لہذا اگر کوئی ایسی مثال ہو جس پر اعلیٰ حضرت کا کلام حیح ثابت ہو جائے اور وہی مکمل لا جواب کن جواب ہو جائے تو براہ کرم تحریر فرمایا جائے یا کوئی
الجواب: المستفتی: محمد زیارت حسین قادری مدرس مدرسہ اسلامیہ پتھلواں، پوسٹ چھیلونی، دیوریا، یوپی (1) نمکین کا ایسا معنی جو بھونڈا ہو کس لغت میں ہے؟ حاشانہ کسی لغت میں یہ معنی ملے نہ اس معنی میں لفظ نمکین مستعمل نہ یہ معنی اس کے محتل عرف شائع ہے کہ اسکو خوبی شمار کرتے ہیں اور عام طور سے کہتے ہیں کہ فلاں کے چہرہ میں نمک ہے اور حدیث میں خود حضور علیہ السلام سے وارد کہ اپنا وصف بیان فرمایا: (1) انا املح‘ (1) میں ملاحت والا ہوں۔ اور ملاحت و مکینی حسن ایک ہی بات ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم مدارج النبوۃ ج ۱، ص ۴، باب اول در بیان حسن خلقت و جمال صورت وے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مطبع رضویہ پبلشنگ کمپنی لا ہور