تصغیر کی لغوی و صرفی تعریف اور اس کے اغراض و اقسام کا بیان
سوال
(۱) تصغیر کے کیا معنی ہیں؟ اور تصغیر کے کتنے اقسام ہوتے ہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
تصغیر اسم میں اس کے دوسرے حرف کے بعد یاء ساکنہ بڑھا کر حقیر یاملاحت پیدا کرنے کے لئے تبدیل کرنے کا کام کرتی ہے اور کبھی تقسیم کے لئے بھی تصغیر آتی ہے انجم الوسیط میں ہے: (التصغير) في الصرف زيادة ياء ساكنة بعد ثانى الاسم مع تغيير هيئة لغرض كالتحقير والتمليح فيقال في قمر قمیر و فی کتاب کتیب (۱) اور تصغیر کبھی تعظیم کے لئے بھی آتی ہے اور اس کے اوز ان کی تفصیل کتب صرف یا کتب لغات میں دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اردو میں تصغیر کی اور بھی صورتیں ہیں قواعد کی کتابوں میں دیکھ لیں۔
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۰۱–۳۰۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کے بارے میں ایک قطعہ کی شرعی حیثیت
باب: کتاب العقائد
کملیا اور چدریا جیسے الفاظ کے صیغہ تصغیر ہونے کی تحقیق
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت کے متعلق سوال
باب: کتاب العقائد
بارگاہ رسالت اور متعلقات رسول کے لیے الفاظ تصغیر کے استعمال کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا عین ایمان ہونا اور علم غیب و گستاخی کا حکم
باب: کتاب العقائد