حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت کے متعلق سوال
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت برحق ہے! کیا فرماتے ہیں مفتیان دین مسائل ذیل میں کہ : زیدسنی عالم اور اکزامنیشن بورڈ سے فاضل شمسی اور بھی مختلف بورڈ کے امتحان میں شامل ہو کر اردو انگریزی وغیرہ زبانوں کا امتحان دے کر بورڈ سے سند یافتہ ہے اور چھوٹے چھوٹے دو چار رسالے و
کتابچے کا مؤلف بھی ہے مزید سنیوں کی ایک عید گاہ میں نماز عیدین کا امام بھی ہے اور بہارا کزامنیشن بورڈ سے ملحقہ ایک مدرسے کا بانی اور ایک انگریزی انٹر کالج کا مدرس بھی ہے۔ اور وقتا فوقتا سنی مسلمانوں کی دعوت پر مجلس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شریک ہو کر تقریر بھی کرتا ہے۔ بایں ہمہ وہ عامتہ المسلمین کے مجمع میں عوام کو خوش کرنے یا اپنی معلومات کی وسعت ثابت کرنے کے لئے یا خدا جانے کیوں اپنی تقریروں میں خود ساختہ گمراہ کن غیر ذمہ دارانہ باتیں کہتا اور بغیر کسی سند و ثبوت کے ایسی ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جو اس سے پہلے اکابرین فقہا وعلمائے اہل سنت سے نہ سنی گئیں ۔ مثلا میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چند مجلسوں میں عامتہ المسلمین اور اپنے ہم نوا چند مولویوں کی موجودگی میں اپنی تقریری میں اس نے بر ملا علی الاعلان یہ کہا کہ : (الف) مجھ کو ایک ایسی دعا معلوم ہے کہ اگر کسی میت کے دفن ہوجانے کے بعد اس کے سرہانے کھڑے ہو کر پڑھ دوں تو منکر نکیر اس سے کوئی سوال نہ کریں گے اور ہم یہ دعا پڑھا کرتے ہیں وہ دعا کیا ہے دریافت کرنے پر بھی زید نے نہ بتائی اور جب کسی نے سوال کیا کہ یہ دعا کس حدیث یا کس کتاب میں ہے تو زید نے جواب دیا کہ اعلیٰ حضرت نے فتویٰ رضویہ جلد چہارم اور حضرت صدر الشریعہ نے بہار شریعت حصہ چہارم میں یہ دعا لکھی ہے۔ بعض علماء نے زید کے حوالے کے مطابق بہار شریعت دیکھی تو اس میں یہ لکھا ہوا ہے۔ مورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کی مٹی دے چکو تو تم میں ایک شخص اس شخص کے قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر کہے یا فلان بن فلانہ، وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا، پھر کہے یا فلان بن فلانہ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا پھر کہے یا فلاں بن فلا نہ وہ کہے گا ہمیں ارشاد کر اللہ تجھ پر رحم فرمائے مگر تمہیں اس کے کہنے کی خبر نہیں ہوگی پھر کہے: اذكر ما خرجت من الدنيا شهادة ان لا اله الا لله وان محمدا عبده ورسوله صلی اللہ تعالی علیه و سلم و انک رضیت بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد صلى الله تعلی علیه وسلم نبيا وبالقرآن اماما نگیرین ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے چلو ہم اس کے پاس کیا بیٹھیں جسے لوگ اس کی حجت سکھا چلئے اس پر کسی نے حضور سے عرض کی اگر اس کی ماں کا نام معلوم نہ ہو فر مایا حواء کی طرف نسبت کرے اس حدیث کو حضور طبرانی نے کبیر میں اور ضیا نے احکام میں اور دوسرے محدثین نے روایت کیا، بعض اجلہ ائمہ تابعین فرماتے ہیں جب قبر پر مٹی برابر کر چکیں اور لوگ واپس جائیں تو مستحب سمجھا جاتا کہ میت سے اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر یہ کہا جائے یا فلاں بن فلاں قل لا اله الا اللہ تین بار، پھر کہا جائے قل ربی الله و دینی الاسلام و نبیی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ اعلیٰ حضرت قبلہ نے اس پر اور اتنا اضافہ کیا: و اعلم ان هذين الذين اتیاک او یا تیانک انما هما عبدان الله لا يضران ولا ينفعان الا باذن الله فلا تخف ولا تحزن و اشهدان ربک الله و دینک الاسلام و نبیک محمد صلی الله تعالى عليه وسلم ثبتنا الله واياك بالقول الثابت فى الحيوة الدنيا وفي الآخرة انه هو الغفور الرحيم ،، بہار شریعت میں جو لکھا ہے اور اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے سر آنکھوں پر لیکن اس روایت کے دیکھنے سے یہ بات واضح نہ ہوئی کہ نکیرین اس میت سے بغیر سوال کئے ہوئے چلے جائیں گے یا سوال کرنے کے بعد جائیں گے اگر بغیر سوال کئے واپس چلے جائیں گے ، عام ازیں کہ وہ بہت نیکو کار ہو یا بدکار اور اس کا خاتمہ بالخیر ہوا ہو یا نہ ہوا ہو تو پھر اعمال صالحہ کی اہمیت و ضرورت باقی نہ رہی جو مسلمان بھی مرجائے اور اس کی قبر پر تلقین کے یہ کلمات حسب روایت پڑھ دیے جائیں نکیرین واپس چلے جائیں گے اور عذاب قبر سے اہل قبر محفوظ و مامون ہو جائے گا۔ (ب) زید نے اسی مجلس میں اپنی تقریر میں سامعین میں سے ایک شخص کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر آپ نے اپنے لڑکے کو پڑھنے کے لئے مدرسہ میں بھیجا اور وہ پڑھنے کے لئے مدرسہ نہ جائے اور کھیل کود میں مصروف ہو جائے اور آپ بچے سے یہ کہیں کہ جاؤ اگر مدرسہ میں نہ جاؤ گے اور نہ پڑھو گے تو ہم تمہاری ٹانگیں توڑ دیں گے اور آپ کا لڑکا آپ کے حکم کے خلاف مدرسہ نہ گیا بلکہ کھیل کود میں وقت ضائع کر کے، پھر جب آپ کے پاس آیا تو اپنی شفقت پدری سے مجبور ہوکر اس بچے کی نہ ٹانگ توڑی اور نہ زدو کوب کیا اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی مجرم وگنہ گارامت کو ہرگز جہنم میں نہ جانے دیں گے۔ چاہے امت مسلمہ کا عمل جیسا بھی ہو۔