انسانی فطرت کا بیان اور نوری یا ناری ہونے کی شرعی تحقیق
سوال
(۲) یہ خا کی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے، کل مولود يولد على الفطرة وابواه يهودانها وينصرانها ويمجسانہ‘کے خلاف ہے یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
نہیں ۔ حدیث کا یہی مطلب ہے کہ ہر بچہ فطرت سادہ پر پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے نہ نوری نہ ناری نہ جنتی نہ جہنمی ہوتا ہے پھر اعمال و عقائد سے مستحق جنت یا مستحق جہنم ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۲۹۳–۲۹۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
طور سینا پر چمکنے والے نور کے متعلق ایک شعر کی شرعی حیثیت اور اس کا حکم
باب: کتاب العقائد
اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ "بھول" یا نسیان استعمال کرنے کی ممانعت
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم بے غایت و نہایت ہیں !
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا عین ایمان ہونا اور علم غیب و گستاخی کا حکم
باب: کتاب العقائد
عصمتِ انبیاء علیہم السلام اور رسول اللہ ﷺ سے بلا وسیلہ مدد طلب کرنے کا حکم
باب: کتاب العقائد