حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم بے غایت و نہایت ہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ: زید کہتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضور کو علم غیب تھا اور اللہ سے باخبر تھے تو بتلائیے کہ حضور پر وحی کیوں آئی کیونکہ وہ اللہ کے راز و نیاز سے باخبر تھے یہ کیا مصلحت تھی جو یہ وحی اور علم غیب تھا۔
الجواب: بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب اللہ نے عطا فر مایا ۔ قال تعالیٰ: وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (٢) اللہ نے تمہیں سب کچھ سکھا دیا جو تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا فضل تم پر بڑا ہے۔ ملاعلی قاری شرح شفا میں فرماتے ہیں: كانت معارفه عليه الصلاة والسلام في نهاية لاترام وغاية لاتسام (1) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم بے غایت و بے نہایت ہیں ان کی طرف رسائی نہیں ۔ شیخ محقق نے مدارج النبوۃ میں فرمایا: ”واز انجمله آنست که هر چه در دنیا است از زمان آدم تا اوان نفتہ اولی بروے منکشف ساختند - الخ صلی اللہ علیہ وسلم (۲) یہیں سے علمائے اہل سنت کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ماکان و ما یکون حتی کہ علوم خمسہ جن میں قیامت کا بھی علم ہے جانتے ہیں حضور تو حضور آپ کے غلامان غلام اولیاء کرام بھی جب تک ان علوم کو نہ جانیں تصرف ان کا دنیا میں صحیح نہیں کما صرح به الباجوری فی سراج البردة الزکیة_بردہ میں ہے: فان من جودك الدنيا وضرتها - ومن علومك علم اللوح والقلم(۳) حضور کو غیب بطریق وحی دیا گیا۔ وحی علوم عامہ کی لوگوں کو علم شریعت سے بہرہ مند کرنے کے لئے آئی باقی علوم خاصہ کی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو کمال علوم سے آراستہ کرنے کے لیئے حضور کی وحی میں کیا حکمت ہے اللہ جانے اور اللہ کا رسول جانے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله