عصمتِ انبیاء علیہم السلام اور رسول اللہ ﷺ سے بلا وسیلہ مدد طلب کرنے کا حکم
خدمت گرامی میں دو سوال حاضر ہیں، امید کہ جلد جواب عنایت فرمائیں گے۔ (1) انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام سے گناہ صغیرہ کا صدور ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر صدور ہو سکتا ہے تو اس تقدیر پر وہ عذاب نار کے مستحق ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ دراں حالیکہ عقیدہ کا مسئلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کبائر کو معاف فرما سکتا ہے اور صغائر پر عذاب دے سکتا ہے۔ (۲) اگر رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ڈائرکٹ اولیائے کرام اور صحابۂ عظام کے وسیلے کے بغیر مانگا جائے تو رسول اللہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟ بینوا توجروا المستقني: محمدشفیق مدرس مدرسہ الجامعۃ الاسلامیہ، قصبہ رونا ہی ضلع فیض آباد
الجواب: استغفر الله العظيم (۱) انبیائے کرام کے متعلق اہل سنت کا عقیدہ ضرور یہ دینیہ ہے کہ وہ قبل نبوت و بعد نبوت کبائر وصغائر سے معصوم ہیں۔ اس پر دلیل عقلی قائم ہے اور اللہ تعلی کا فرمان عظیم الشان لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ بس ہے۔ سائل کا یہ سوال کہ معاذ اللہ وہ عذاب کے مستحق ۔ الخ‘ عجب ہے۔ انہیں قطعا یقینا اجماعاً عذاب نار سے بری جاننا واجب ہے اور اس میں شک منافی ایمان موجب خسران ہے۔ سائل کا یہ سوال اس امر میں شک کرنے پر دال ہے لہذا اس پر تو بہ وتجدید ایمان ضرور اور تجدید نکاح بھی لازم ہے جبکہ شادی شدہ ہو یہ تفصیل کہ اللہ تعالیٰ کبائر کو معاف فرما سکتا ہے اور صغائر پر عذاب دے سکتا ہے، مہمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کفر کےسواسب گناہ چاہے تو معاف فرمائے اور چاہے تو سب پر عذاب دے۔ قال تعالى : إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ . (۲) اور یہ (۲) اپنے رب کے حکم سے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دینے والے ہیں۔ وہ خود فرماتے ہیں: ” انما انا قاسم واللہ یعطی (1) اور صحابہ و اولیاء کرام ان کی جناب میں وسیلہ ہیں اور وہ خدا کی جناب میں سب کا وسیلہ ہیں ان کے واسطے کے بغیر کسی کو کچھ ملا نہ ملے نہ ملے گا اور ان کا دیا ہوا ہمیں ان کے محبوبوں کے ذریعہ پہنچتا ہے۔ یہی جاننالازم ہے اور اس کا خلاف گمراہی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ