طور سینا پر چمکنے والے نور کے متعلق ایک شعر کی شرعی حیثیت اور اس کا حکم
(1) طور سینا پر چھکا جونور نبی آج امت کے سینہ میں موجود ہے“ پڑھنا صحیح ہے یا غلط؟ جبکہ آیت کریمہ یہ ہے: فَلَمَّا تَجَى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَا (سورة الاعراف: ۱۴۳)
یہ شعر عوام کے سامنے نہ پڑھا جائے کہ ان کے اذہان میں یہ راسخ ہے کہ طور پر جو بجلی چمکی وہ خدائے عزوجل کی تھی اور اسی پر ظاہر قرآن ناطق ہے۔ قال اللہ تعالیٰ : فَلَمَّا تَجَى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَا (۱) گو کہ اس لحاظ سے نور نبی نور خدا کے منافی نہیں کہ حقیقہ نبی کا نور بلکہ جملہ انوار خدا ہی کے انوار و مظاہر ہیں مگر اضافت مقید خصوص ہے اس لئے ظاہراً عوام کے اذہان میں یہ شبہ پیدا ہوگا کہ معاذ اللہ وہ نور خدا کا نور نہ تھا اور یہاں سے کہہ سکتے ہیں کہ جس کا قدم طریقت میں راسخ نہیں اسے یہی حکم ہے کہ ایسے الفاظ سے احتراز شدید کرے جن میں ایہام معنی فاسد کا ہوالہذا اس اطلاق سے تو بہ کا حکم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم