حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا عین ایمان ہونا اور علم غیب و گستاخی کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں حضور کی محبت جز مانتا ہوں ، کل نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (ماکان وما یکون ) کا علم نہیں ہے اور پیغمبروں کے خلاف کرنے سے ایمان میں کچھ کمی نہیں آتی ۔ قرآن و حدیث کی رو سے مدلل جواب دیں۔ المستفتی: محمد ضیاءالرحمن رضوی
الجواب: بے شک حضور سر کار دو عالم علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت عین ایمان ہے جسکے بغیر ایمان ہو ہی نہیں سکتا اس پر واضح دلیل کلمہ طیبہ "لا اله الا الله محمد رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وصحبه وسلم “ ہے اور سر کا ر عالم و عالمیاں حضور محمد رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ،، لايؤ من احدكم حتى اكون احب اليه من والده وولده والناس اجمعین ) یعنی تم میں سے کوئی مسلمان نہ ہو گا جب تک میں اسے اس کی اولا داور باپ اور تمام جہان کے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ اگر وہ شخص حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت اسی طور پر مانتا ہے جب تو خیر ورنہ ہرگز مومن نہیں کہ ہرگز سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت والا ہی نہیں اور اس کے جملہ سے محبت حضور کی تنقیص ظاہر ہے جس (1) مشكوة المصابيح ، ص ۱۲، کتاب الایمان مجلس برکات مبارکپور اعظم گڑھ سے اس پر تو بہ فرض ہے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو اللہ جل وعلا نے ماکان و ما یکون کا علم دیا۔ قال تعالى: وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ . () یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ سکھا یا جو آپ نہ جانتے تھے اور اس پر آیات کثیر و دال ہیں اور احادیث کثیرہ شاہد جس کی تفصیل ، انباء المصطفیٰ خالص الاعتقاد، الدولة المكية رسائل اعلی حضرت علیہ الرحمہ میں ہے اس کا منکر قرآن کی آیات کثیرہ اور احادیث کثیرہ کا منکر ہے اس پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور اس کا یہ جملہ بھی بہت سخت ہے جو اخیر میں درج ہوا جس سے انبیا علیہم السلام کی تنقیص شان اور ان کی خلاف ورزی کی اباحت قائل کے نزدیک آشکار ہے اور یہ ضروریات دین کا کھلا انکا ر ہے اور قرآن کی کھلی تکذیب ہے۔ قرآن فرماتا ہے : وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللهِ (۲) ہم نے جو رسول بھیجا اسی لئے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت ہو۔ تو حضور علیشاه و انبیاے عظام کو اپنا مطاع ومقتد او امام ماننا فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم خلاف پیمبر کسے رہ گزید کہ ہرگز به منزل نه خواهد رسید (۳) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله