حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کے بارے میں ایک قطعہ کی شرعی حیثیت
حضور نبی کریم صل می بینم کے لئے علم غیب عطائی خود قرآن عظیم سے ثابت ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: بنام محمدی بڑی تقویم کریمی بک ایجنسی، ۱۹ / آئی۔ ایم۔ مرچنٹ روڈ ممبئی۔ ۲ سے ہر سال ایک جنتری شائع ہوتی ہے اور اسکے سرورق یہ قطعہ ہوتا ہے۔ (1) علم نیچے کس نمی داند بجز پروردگار گر کسی گوید که من دانم از و باور مدار مصطفی ہر گز نہ گفتے تانہ گفتے جبرئیل جبر میلش ہم نہ گفتے تا نہ گفتے کردگار کیا یہ قطعہ بیج ہے؟ اور اس کے مطابق عقیدہ رکھنا درست ہے؟ تفصیلا دلائل سے آگاہ کریں۔ المستفتی محمد اسرائیل رضوی معلم دار العلوم قادر به چه یا کوٹ ، اعظم گڑھ
قطعہ میں حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے علم غیب ذاتی کی نفی کی گئی ہے اور علم عطائی کا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے لئے اثبات کیا گیا ہے اور یہ بے شک صحیح ہے بلاشبہ علم ذاتی خاصہ باری تعالیٰ ہے اور علم ذاتی مخلوق میں کسی کے لئے مانا شرک ہے اور علم عطائی اصلا انبیاء اور بالخصوص سرور انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کے لئے بنص قرآن عظیم ثابت ہے: فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ - الآية جو مطلقا نبی کے علم غیب عطائی کا منکر ہو وہ بھی کافر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم ۷ / جمادی الاخری ۱۴۰۶ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی