غسل کی نیت ضروری نہیں!
سوال
اس مسئلہ میں علمائے اہلسنت و مفتیان دین متین کیا فرماتے ہیں کہ : ایک صاحب پر ہیز گار پابند صوم وصلوۃ ہیں ، وہ فرماتے ہیں، جسے نیت غسل یاد نہیں ہے، طریقہ غسل سے نا واقف ہے اور عام مذہب والوں کی طرح الٹا سیدھا پانی ڈال کر بدن بھگو تا مل لیتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ پاک نہیں ہوتا ہے، نہ وضو ہوگا نہ نماز ہوگی نہ دعا قبول ہوگی ۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: نیست قسل کے لئے ضروری نہیں، البتہ کلی کرنا، ناک میں اس طرح پانی ڈالنا کہ نرم بانسے تک پانچ جائے اور پورے بدن پر پانی بہانا فرض ہے، جو ان میں سے کسی بات کو نہ کرے، اس کا نفس صحیح نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۳۵–۳۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
غسل خانے میں ستر کھولنے، قبلہ رو ہونے اور کشفِ عورت کے متعلق شرعی احکام
باب: کتاب الطہارت
وضو کا پانی طہارت خانے کی نالی میں بہانے کا شرعی حکم
باب: کتاب الطہارت
ہومیو پیتھک ادویات میں الکوحل کی موجودگی میں ان کے استعمال کا شرعی حکم
باب: کتاب الطہارت
نجاست کی تطہیر، چکنے برتن کی صفائی اور ناخن پالش کا وضو پر اثر
باب: کتاب الطہارت
حالت استحاضہ میں عورت کی نماز کی ادائیگی کا طریقہ
باب: کتاب الطہارت