وضو کا پانی طہارت خانے کی نالی میں بہانے کا شرعی حکم
وضو کا پانی طہارت خانے میں بہانا کیسا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) وضو کا پانی نالی سے ہوتے ہوئے طہارت خانہ میں جاتا ہے۔ کیا اس صورت میں وضو کا پانی طہارت خانہ میں بہانا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ دوسری طرف سے وضو کا پانی بہانے کے لئے جگہ ہے۔ (۲) مسجد کے اندرنل ہے اور نل پر وضو کرنے کے بعد پانی ایک نالی سے بہتا ہے اور دوسری طرف طہارت خانہ ہے، طہارت خانہ کا پانی بھی دوسری نالی سے بہتا ہے تھوڑی دور کے بعد دونوں نالیاں ایک ہو جاتی ہیں، یہاں بھی وضو کا پانی گرنے کے لئے دوسری طرف جگہ ہے ۔ کیا اس صورت میں وضو کے پانی کو طہارت خانہ کے پانی میں جانے دیا جائے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: (1) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) طہارت خانہ میں اس پانی کو جانے دینا جائز ہے اگر چہ بہتر یہ ہے کہ دوسری طرف پانی گرا ئیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ صفر المظفر ۱۳۹۸ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی