نجاست کی تطہیر، چکنے برتن کی صفائی اور ناخن پالش کا وضو پر اثر
سکھا سکھا کر پاک کیا جائے تو بہت وقت لگے گا کیونکہ جلدی سے خشک بھی نہیں ہوتا بلکہ اوپر کا حصہ سوکھنے کے بعد بھی نیچے پانی ٹپکتا رہتا ہے۔ جب تک بالکل نہ سوکھ جائے تری باقی رہتی ہے۔ لہذا کوئی آسان طریقہ بیان فرمائیں۔ (۲) کوئی بھی کپڑا دھونے کے بعد اگر پانی کی ٹنکی کھول کر نیچے تھوڑی دیر پکڑے رہے کہ اس پر پانی گرتار ہے یا کپڑے کو پکڑ کر لوٹے وغیرہ سے اوپر پانی ڈالا جائے تو ایک بار میں ہی پاک ہو جائے گا یاوہ بھی خوب نچوڑ نا اور تین بار پاک کرنا ضروری ہے۔ (۳) اس مٹی کا برتن جو کہ گھی سے چکنا ہو گیا ہے اور چکنائی اس کے اندرسا چکی ہے، کتے نے منہ ڈال دیا تو اس کے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ (۴) وہ رنگ جو کہ عورتیں ناخنوں پر لگاتی ہیں، ناخن پر لگا ہوا ہے، ظاہر ہے کہ اس کے لگنے سے ناخن پر پانی نہیں پہنچے گا، بغیر چھٹائے او پر پانی بہانے سے وضو و غسل ہو جائے گا یا نہیں؟ نیز جو آدمی وہ رنگ فروخت کرتا ہے، اس کی چھنگلیاں کے ناخون پر لگا ہوا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں مجبور ہوں کیونکہ مجھے اپنے ناخون پر لگا کر دکھانا پڑتا ہے، اسے روزانہ کہاں تک کھر چوں ، آیا اس کا وضو ہو جائے گا یا نہیں؟ المستفتی : شفاعت علی اشرفی گوڑیا، وا یہ منگر یا ضلع گنگا نگر ( راجستھان)
الجواب: (1) نجاست اگر دلدار ہو تو تین مرتبہ کی کوئی قید نہیں بلکہ شرط اس کے دل کا زائل ہو جانا ہے خواہ ایک مرتبہ میں زائل ہو، خواہ ایک سے زائد لیکن چار یا پانچ جتنے بار میں زائل ہو، اتنے بار دھونا ضروری ہوگا۔ اور اگر دلدار نہ ہو تو تین بار دھونا اور ہر بار اتنی قوت سے نچوڑ نا ضروری ہے کہ قطرہ نہ ٹیکیں۔ اسی قدر سے کپڑا پاک ہو جائے گا اب اگر پوری قوت سے نچوڑنے کے بعد جب لڑکا یا، دو ایک قطرہ ٹپک گئے تو حرج نہیں۔ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْساً الا وُسْعَهَا } () واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ایک ہی بار میں پاک ہو جائیگا جبکہ اتنی تیز دھار سے دھوئیں کہ نجاست نہ رہنے کا ظن غالب ہو جائے ۔ مگر لوٹے سے عادۂ ظن غالب حاصل نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) مٹی کا روغنی برتن جس کے اندر مسام نہیں ہوتے اسے پتے یا کپڑے سے پونچھ لینا کافی ہے جبکہ اتنا پو نچھے کہ اثر جاتا رہے اس قدر سے پاک ہو جائے گا اور جو برتن مٹی کا روغنی نہ ہو، اسے تین بار دھولینا کافی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) صورت مسئولہ میں اس رنگ کے لگے رہنے سے وضو و غسل پر کوئی اثر نہ ہوگا کہ اس رنگ کی عورتوں کو زینت کے لئے ضرورت پڑتی ہے اور اس کی نگہداشت و احتیاط میں حرج نہیں تو یہ مہندی کی نظیر ہوا لہذا ضروری وضو و غسل کے صحیح ہونے کا حکم دیا جائے گا اگر چہ وہ شے جرم دار ہو اگر چہ کا پانی نہ پہونچے ۔ یہ حکم جب ہے جبکہ قدر تقلیل لگایا جائے اور وزن و مقدار میں ہو تو اسے چھڑانا ضروری کہ اس کی نگہداشت میں حرج نہیں۔ مگر اس سے احتراز بہتر ہے کہ اس میں اسپرٹ کی آمیزش سنی جاتی ہے اور اگر متفق و متعین ہو کہ اس میں کوئی نجس چیز مخلوط ہوتی ہے تو احتر از لازم اور بغیر اسے زائل کئے نہ وضو ونسل صحیح نہ نمازیں ہوں گی ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۷ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ