مردار کی کھال فروخت کر کے اس کی قیمت استعمال کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص کی گائے مرگئی اس نے چہار سے قیمت لیکر اس کے چمڑے کو فروخت کر دیا اور اسکی قیمت کو اپنے مصرف میں لے لیا ۔ تو کیا اس کا ایسا کرنا جائز ہے؟ جب اسے منع کیا گیا تو وہ کہتا ہے کہ مردہ جانور کے چمڑے کو فروخت کرنا اور اس کی قیمت کو اپنے مصرف میں لانا جائز ہے! نیز مردہ جانور کے روخت کاکیا حکم ہے جواب مستفتی: عبداللہ انصاری، محلہ نواڈ یہ تالاب پور، اورنگ آباد بہار
الجواب: مردار کی کھال بعد دباغت طاہر ہے جو بھی چھڑا د باغت دے دیا گیا پاک ہو گیا۔ ہدایہ میں ہے: کل اهاب دبغ فقد طهر (۱) اسے ہر مسلم کا فرسب کے ہاتھوں بیچ سکتے ہیں اور قبل دباغت اسکی فروخت ناجائز و غیر صحیح ہے مگر هدایه اولین ، ص ۲۴، کتاب الطهارات مجلس برکات مباركفور کافر سے جور قم ملی وہ حلال ہے۔ واللہ تعالی اعلم صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ / جمادی الاولی ۱۴۱۲ھ