غسل یا طہارت کے بعد قطرہ آنے کے وہم یا یقین کا حکم اور استبراء کی اہمیت
غسل یا طہارت کرنے کے بعد قطرہ آنے کا وہم ہو تو کیا کرے؟ کیا وضو باقی رہے گا؟ میرے بزرگ اختر رضا خاں صاحب ! السلام علیکم گزارش یہ ہے کہ اس فتوی کا جواب دیجئے آپ کی مہربانی ہوگی۔ (1) جب میں غسل کر کے کھڑا ہوتا ہوں تو ایک بوند پیشاب کا قطرہ نکلتا ہے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے تو اس حالت میں نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے۔ (۲) اور جب میں طہارت کر کے اٹھ کھڑا ہوتا ہوں تو اس وقت بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک قطرہ پیشاب کا نکلا اگر طہارت کرنے کے بعد کسی وقت محسوس نہیں ہوا کہ پیشاب کا قطرہ نہیں گرا تو وضو کرنے کے لئے بیٹھتا ہوں تو پھر جب محسوس ہوتا ہے کہ اب قطرہ گرا اور یہ مجبوری مجھے ہمیشہ رہی ہے اب آپ ہی بتائیے کہ ان حالات میں نماز پڑھنی چاہئے یا نہیں یہ فتوی بتا دیجیئے آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ (۳) طہارت کرنے کے بعد ہی وضو کیلئے بیٹھتا ہوں اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ قطرہ پیشاب گرا۔ فقط المستفتی : محمدحسین ، ولد علاءالدین آنولہ
الجواب: قطرہ نکلنے کا غالب گمان ہو یا یقین ہو تو وضو کا اعادہ ضروری ہے اس وضو سے نماز نہ ہوگی اور محض شک سے وضو نہ جائے گا۔ استنجا کے بعد خوب اچھی طرح استبراء کرے اور استبرا یہ ہے کہ قطرہ نہ آنے کا اطمینان حاصل کرے اور وہ ہر شخص کے لحاظ سے مختلف طریقہ پر حاصل ہوتا ہے بعض کو کھنکار سے اور بعض کو دوسرے طریقہ سے۔ اور قطع وسواس کے لئے رومالی پر پانی ڈالنا چاہئے ۔ واللہ تعالی اعلم