مردار جانور کی کھال کو مچھلیوں کے تالاب میں ڈالنے اور اسے چھونے کا حکم
مردار جانور کی کھال کو چھونا یا ہاتھ لگانا کیسا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ہمارے محلہ میں ایک بھینس ختم ہو گئی اس کو جنگل میں لے جا کر ڈال دیا ہمارے محلہ کے عبد الغنی نے اس بھینس کی اتری ہوئی کھال کو خود اپنے آپ تالاب میں ڈال دیا اس تالاب میں ان کی مچھلی پل رہی تھی اس لالچ میں کہ ہماری مچھلی کھا کر موٹی ہو جائے گی اس بھینس کی کھال بھی اتر وادی تھی ۔ کھال اترے ہوئے کو لائے تھے ہم محلہ والوں نے اس پر اعتراض کیا۔ آپ کا اس مسئلہ میں کیا حکم ہے؟ جب ہم لوگوں نے اس کو دیکھا تو ان سے کہا کہ آپ اس تالاب میں سے اس کو نکال دیں تب انہوں نے اپنے ہاتھوں سے نکال کر جہاں پڑی تھی وہیں پر ڈال دیا۔ ہم لوگوں کو اس بات پر بہت اعتراض ہے۔ المستفتي : بشير احمد موضع راس، پوسٹ سور ہے ضلع بریلی
انہوں نے ایسا کر کے بلاوجہ خود کو آلودہ نجاست کیا اور نجاست سے آلودہ ہونا جائز نہیں ہے ان پر تو بہ لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله